.

شام ،عراق اور لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر امریکا کی نئی پابندیاں عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکانے شام ،عراق اور لبنان سے تعلق رکھنے والی ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں سے وابستہ افراد پر نئی پابندیاں عاید کردی ہیں۔

امریکا کے محکمہ خارجہ نے سوموار کو ایک بیان کہا ہے کہ ’’ان ’’غیرملکی‘‘ افراد پر ایران ، شمالی کوریا اور شام سے متعلق عدم پھیلاؤ کے ایکٹ کی خلاف ورزی اور اس کے تحت ممنوعہ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی پاداش میں پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ امریکی قانون کے تحت شمالی کوریا اور شام سے اگر کوئی فرد ایسا مواد حاصل کرتا ہے یا اس کو منتقل کرتا ہے جس کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں یا بیلسٹک میزائلوں کے نظام کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے تو اس قابلِ تعزیر جرم میں اس فرد کے خلاف پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔

امریکی اعلامیے کے مطابق اس قانون کے تحت عراقی حزب اللہ کے بعض ارکان اور روس اور شام سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں پر پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔ان کے علاوہ ایران کی حمایت یافتہ لبنانی حزب اللہ پر بھی نئی قدغنیں عاید کی گئی ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’امریکی حکومت کاکوئی بھی محکمہ یا ایجنسی ان غیرملکی افراد سے کسی بھی شے، ٹیکنالوجی یاخدمات کے حصول کے لیے کوئی معاملہ طے نہیں کرےگا،الّا یہ کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ اس کی منظوری دیں یا اس کا تعیّن کریں۔ امریکا کی یہ نئی پابندیاں دو سال تک نافذالعمل رہیں گی۔‘‘