.

اسرائیل کے ملکیتی آئیل ٹینکر پرایران کی معاونت سے یمن سے ڈرون حملہ کیا گیا: پینٹاگان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی ایک سینیر عہدہ دار نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ملکیتی مرسراسٹریٹ ٹینکر پر یمن سے پڑوسی ملک عُمان کی ساحلی حدود میں ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔

امریکا کی ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری دفاع برائے مشرق اوسط ڈانا اسٹرول سے ان رپورٹس کی بابت پوچھا گیا تھا کہ کیا یہ درست ہے،اسرائیلی ٹینکر پر ایران کے ساختہ ڈرون سے حملہ کیا گیا تھا تو انھوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ’’ جی ہاں، میں ان رپورٹس کی تصدیق کرسکتی ہوں۔‘‘

انھوں نے سینیٹ میں مشرقِ اوسط میں امریکا کی سکیورٹی کے شعبے میں معاونت سے متعلق بحث کے دوران میں کہا کہ ’’مرسراسٹریٹ پرایران کی حمایت سے یک طرفہ ڈرون حملہ کیا گیا تھا۔‘‘ان کا اشارہ یمنی حوثیوں کی جانب تھا۔وہی یمن سے سعودی عرب اور دوسرے علاقوں کی جانب ڈرون حملے کررہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا:’’ہم کیا دیکھتے ہیں کہ ایران خطے بھر میں دہشت گرد گروپوں، نان اسٹیٹ ایکٹروں (غیرریاستی عناصر) اور ملیشیاؤں کو مسلح کررہا ہے اورانھیں رقوم مہیّا کررہا ہے۔ان تمام سرگرمیوں کا مقصد خطے میں ان تمام حکومتوں اور شراکت داروں کو نقصان پہنچانا ہے جن کے ساتھ مل کر ہم کام کرنا چاہتے ہیں،ان کے شہریوں کو دہشت زدہ کرنا ہے اور انھیں استحکام حاصل کرنے سے روکنا ہے۔‘‘

پینٹاگان کی عہدہ دار نے کہا کہ ’’اس سال کے دوران میں گذشتہ برسوں کے مقابلے میں ہم نے یمن سےحوثی ملیشیا کے سعودی عرب کی جانب زیادہ حملے ملاحظہ کیے ہیں۔ایران حوثیوں کو آلات اور علم وہُنر سے آراستہ کرکے ان کی ہلاکت آفرینی میں اضافہ کررہا ہے تاکہ وہ سعودیوں اور اپنے یمنی شہریوں پرحملے کرسکیں۔‘‘

اسٹرول نے سعودی عرب میں موجود امریکیوں کی قابل ذکر آبادی کے تحفظ کے ضمن میں اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’وہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملوں کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہیں۔‘‘

واضح رہے کہ قبل ازیں امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے 2 اگست کو ایک بیان میں ایران پراسرائیلی مرسر اسٹریٹ ٹینکرپر ڈرون حملے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا تھا جبکہ ایران نے اس کی تردید کی تھی۔30 جولائی کو عُمان کی آبی حدود میں ایک ڈرون اس ٹینکر جا ٹکرایاتھا، اس کے نتیجے میں ٹینکر کے عملہ کے دوارکان ہلاک ہوگئے تھے۔