.

قطر:نسلی منافرت پھیلانے پرسات اورکووِڈکی پابندیوں کی خلاف ورزی پر 88 افراد گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں حکام نے سوشل میڈیا پر نسلی منافرت پھیلانے کے الزام میں سات افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے معاملہ پبلک استغاثہ کے سپرد کردیا ہے۔

ان کے علاوہ حکام نے خلیجی ریاست میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کےلیے نافذالعمل احتیاطی اقدامات کی خلاف ورزی کے الزام میں 88 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ان کا کیس بھی مزید کارروائی کے لیے پبلک استغاثہ کے حوالے کردیا گیا ہے۔

قطر کی وزارتِ داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اوّل الذکرگرفتار افراد نسلی اور قبائلی عصبیت کو ہوا دے رہے تھے اور سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلا رہے تھے۔

وزارتِ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی بھی نسل پرستی پر مبنی تقریر کرے گا اور ملک ومعاشرے کی سلامتی واستحکام کے لیے خطرے کا موجب بنے گا،تو اس کی گرفتاری عمل میں لائی جائے گی اور اس کے خلاف قانونی کارروائی میں کسی تردد کا مظاہرہ نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ قطر میں اکتوبر میں ہونے والے شوریٰ کونسل کے انتخابات کے لیے حکومت کی جاری کردہ شرائط پر بعض لوگ احتجاج کررہے ہیں اور انھوں نے سوشل میڈیا پراس کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔

امیرقطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ریاست کی پہلی قانون سازشوریٰ کونسل کے انتخاب کے لیے اسی ہفتے انتخابی قانون کی منظوری دی ہے۔شوریٰ کونسل 45 ارکان پر مشتمل ہوگی۔امیرقطران میں سے 15 ارکان کو نامزد کریں گے اور 30 کا براہ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے انتخاب کیا جائے گا۔

اس نئے قانون کے مطابق 18 سال سے زیادہ عمر کے قطری شہری شوریٰ کونسل کےانتخاب میں ووٹ ڈال سکتے ہیں لیکن جو لوگ قطری نژاد نہیں مگر ان ان دادا قطری نژاد تھے اور ملک میں پیدا ہوئے تھے،انھیں اصل قومیت کی شرط سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 30 سے زیادہ عمر کے اصل قطری شہری ہی شوریٰ کونسل کے انتخاب میں بہ طور امیدوار حصہ لے سکتے ہیں۔یادرہے کہ قطر میں 2003ء میں منعقدہ ایک آئینی ریفرینڈم میں شوریٰ کونسل کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔اس کے انتخابات دوحہ میں 2022ء میں فٹ بال کے عالمی کپ ٹورنا منٹ کے انعقاد سے قبل ہوں گے۔

کونسل کا انتخابی امیدوار ہونے کے لیے اصل قطری شہری ہونے کی شرط پرسوشل میڈیا پر ایک تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے اورقطر کے قدیم آل مرہ قبیلہ سے تعلق رکھنے والے افراد اس کے خلاف احتجاج کررہے ہیں کیونکہ وہ اس شرط پر پورا نہیں اُترتے اور شوریٰ کونسل کا بہ طورامیدوار انتخاب نہیں لڑسکتے ہیں۔

آل مرہ بنیادی طور پر اونٹ چروانے والا ایک خانہ بدوش قبیلہ ہے۔اس قبیلے کے افراد جزیرہ نما عرب کے ایک بڑے علاقے میں آباد ہیں اور قطر کی نسلی آبادی میں بھی ان کا بڑا حصہ ہے،وہ امیرِ قطر کے جاری کردہ انتخابی قانون کو امتیازی قرار دے رہے ہیں اوراس کے خلاف سراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں۔آل مرہ کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے انھیں انتخابی عمل ہی سے باہر کردیا گیا ہے۔