.

اسرائیلی وزیر خارجہ مراکش کے دورے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیپیڈ بدھ کے روز مراکش پہنچ رہے ہیں۔

اسرائیل اور مراکش کے مابین گزشتہ برس باضابطہ سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد کسی اعلی اسرائیلی رہنما کا رباط کا یہ پہلا دورہ ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یائر لیپیڈ کے ساتھ اسرائیلی پارلیمان کے اراکین کا ایک وفد اور اعلی عہدیدار بھی مراکش جا رہے ہیں جہاں وہ مراکشی عہدیداروں کے ساتھ متعدد امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وہ رباط میں اسرائیلی ڈپلومیٹک مشن کا افتتاح کریں گے اور کیسابلانکا میں واقع تاریخی یہودی عبادت گاہ بیت ایل کا دورہ بھی کریں گے۔

اسرائیل اور چار عرب ممالک، مراکش، متحدہ عرب امارت، بحرین اور سوڈان کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے امریکا کی ثالثی میں گزشتہ برس ہونے والے 'معاہدہ ابراہیمی‘ کے بعد کسی اسرائیلی وزیر کا مراکش کا یہ پہلا دورہ ہے۔

یہ سن 2003 کے بعد سے کسی اسرائیلی وزیر کا مراکش کا پہلا دورہ بھی ہے۔ اس دورے کے دوران لیپیڈ اپنے مراکشی ہم منصب ناصر بوریتا سے ملاقات کریں گے۔

دیرینہ دوستی کا تسلسل
لیپیڈ نے رباط روانہ ہونے سے قبل ایک بیان میں کہا،”یہ تاریخی دورہ ہماری دیرینہ دوستی اور مراکش میں یہودی برادری کی گہری بنیادی روایات کے تسلسل کا حصہ ہے۔"

مراکش ان چار عرب ملکوں میں سے ایک ہے جس نے گزشتہ برس امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔ دیگرملکوں میں متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان شامل ہیں۔

فلسطینیوں نے اس معاہدے پر ناراضگی ظاہر کی تھی اور اسے فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف قرار دیا تھا۔

گزشتہ جون میں نیتن یاہو کے اقتدار کے خاتمے اور اسرائیل میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ نئے تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

پانچ ہفتے قبل ہی لیپیڈ نے متحدہ عرب امارات کا پہلا تاریخی دورہ کیا تھا۔ انہوں نے اس دورے کے دوران عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے بڑھتے ہوئے تعلقات کا ذکر اور باہمی حریف ایران کے سلسلے میں تشویش کا اظہار کیا تھا۔

عرب اسرائیل تعلقات پر بائیڈن بھی ٹرمپ کی پالیسی پر گامزن

خیال رہے کہ 1948 میں یہودی مملکت کے قیام سے پہلے تک مراکش میں یہودیوں کی بہت بڑی آبادی رہتی تھی۔ تاہم 1948سے 1964کے درمیان تقریباً ڈھائی لاکھ یہودی مراکش سے اسرائیل منتقل ہو گئے۔ آج مراکش میں تقریباً تین ہزار یہودی آباد ہیں۔