افغانستان سے فوج واپس بلانے پر پچھتاوا نہیں: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ایسے وقت میں جب طالبان تحریک نے صوبہ بدخشاں کے دارالحکومت فیض آباد کے علاقوں پر اپنے کنٹرول کا اعلان کیا ہےامریکی صدر جو بائیڈن نے منگل کو ایک بیان میں کہا ہے اپنی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے فیصلے پر افسوس نہیں۔ امریکی فوج اپنے شیڈول کے مطابق افغانستان سے اس مہینے کے آخر تک نکل جائے گی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ملک کا دفاع کرنا افغان فوج کی ذمہ داری ہے۔ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف طالبان تیزی کے ساتھ مختلف صوبوں پر اپنا کنٹرول قائم کرتے چلے جا رہے ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے زور دیا کہ افغانستان میں تشدد ناقابل قبول ہے اور یہ تشدد طالبان اور امریکا کے باہمی امن معاہدے کے مطابق نہیں ہے۔

انہوں نے نامہ نگاروں کو مزید کہا کہ جو کچھ وہاں ہو رہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2020 میں افغانستان میں امن لانے کے معاہدے کے حوالے سے تشدد کی سطح اس معاہدے میں طالبان کے وعدے کے مطابق نہیں ہے۔

اس کے علاوہ وائٹ ہاؤس نے اشارہ کیا کہ افغان فورسز کو طالبان سے لڑنے کے لیے کافی تربیت حاصل ہے۔

ادھر امریکی محکمہ خارجہ کے دو ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ وزارت خارجہ نے کابل میں اپنا سفارتی عملہ مزید محدود کرنے پر غور شروع کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں