.

افغانستان میں جاری خانہ جنگی، امریکا نےعملہ واپس بلانے پرغور شروع کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا کہ افغانستان میں تشدد ناقابل قبول ہے۔ افغانستان میں جو کچھ ہورہا ہے وہ امریکا اور تحریک طالبان کے درمیان طے پائے معاہدے کے مطابق نہیں۔

دوسری طرف دو باخبر امریکی ذرائع نے بتایا ہے کہ کابل سفارت خانے میں موجود مزید امریکی عملے کو واپس بلانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع نے مزید کہا کہ تحریک طالبان افغانستان میں مسلسل کامیابیاں حاصل کررہی ہے۔ طالبان جس تیزی کے ساتھ فواید سمیٹ رہے ہیں امریکیوں کو اس کا اندازہ نہیں تھا۔ موجودہ حالات کے بعد طالبان اور افغان حکومت کے درمیان بات چیت اور بھی ناگزیر ہوگئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکی حکام نے افغان حکومت کے خاتمے کے ممکنہ ٹائم ٹیبل کے طور پر 6 ماہ کے بارے میں بات نہیں کی تھی۔ تاہم امریکیوں نے یہ کہا تھا کہ اگر افغان حکومت کمزور پڑی تو وہ جلد طالبان کے ہاتھوں سقطو کا شکار ہوجائے گی۔

عملے کو محدود کرنے پرغور

معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی وزارت خارجہ اب کابل میں اپنے سفارت خانے میں ضروری عملے کے سوا باقی تمام اسٹاف واپس بلانے کی تیاری کررہا ہے۔ آنے والے دنوں یا ہفتوں میں عملے کی کسی قسم کی جزوی واپسی کا امکان ہے۔

جزوی انخلا سیکورٹی کی صورت حال کی وجہ سے امریکی عملےکو کم کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہوگا۔ اضافی انخلاء کی تفصیلات پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے تاہم فیصلہ آنے والے دنوں میں واضح ہونے کی توقع ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے کچھ عہدیدار جنہوں نے امریکی سفارت کاروں کے انخلا کی مخالفت کی تھی۔ تاہم اب انہوں نے بھی اپنا لہجہ بدلنا شروع کر دیا ہے اور ان اہلکاروں کے عملے کی واپسی کے خیال سے متفق ہیں جو اب عملے کو کم کرنا چاہتے ہیں۔