.

ترکی افغان طالبان کی پیش قدمی کے باوجود کابل ہوائی اڈے کاانتظام سنبھالنے کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی جنگ زدہ افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بعد اور طالبان کی حالیہ تیزرفتار پیش قدمی کے باوجود کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

ترکی کے دوعہدے داروں کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان کی زمینی صورت حال پر نظررکھے ہوئے ہیں۔طالبان نے بدھ کو شمالی افغانستان میں واقع ایک اور شہرپر قبضہ کرلیا ہے اوروہاں سے سرکاری سکیورٹی فورسز کو نکال باہر کیا ہے۔ گذشتہ چھے روز میں یہ آٹھواں صوبائی دارالحکومت ہے جس پر طالبان نے قبضہ کیا ہے۔

اس دوران میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو فوجیوں کا انخلا قریب قریب مکمل ہوچکا ہے۔ترکی نے نیٹو فوجیوں کے انخلا کے بعد کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پراپنے فوجی تعینات کرنے کی پیش کش کی تھی اور اس نے اس مقصد کے لیے امریکا کے ساتھ کئی ہفتے تک بات چیت کی تھی۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس ضمن میں امریکا سے مالی اور لاجسٹیکل امداد مہیا کرنے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

ترکی کے ایک سینیرعہدہ دار نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اب تک تو ترک مسلح افواج کے کابل ائیرپورٹ کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے۔اس ضمن میں بات چیت اور(انتظام سنبھالنے کا) عمل جاری ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہوائی اڈے کا انتظام کن بنیادوں پر منتقل ہوگا،اس ضمن میں کام جاری ہے اور افغانستان کی صورت حال پر بھی کڑی نظر رکھی جارہی ہے۔‘‘

واضح رہے کہ طالبان ترکی کو خبردار کرچکے ہیں کہ وہ افغانستان میں اپنے فوجیوں کو کابل ہوائی اڈے پر پہرے کے لیے تعینات نہیں رکھے اورانھیں واپس بلا لے جبکہ ترکی طالبان کا یہ مطالبہ مسترد کرچکا ہے۔

ترکی کے ایک سکیورٹی عہدہ دار نے کہا ہے کہ ’’کابل ہوائی اڈے کا کنٹرول سنبھالنے کے حوالے سے ہمارا مؤقف بالکل تبدیل نہیں ہوا ہے لیکن افغانستان میں صورت حال روزبروز تبدیل ہورہی ہے اور ترکی وہاں رونما ہونے والے واقعات کا مسلسل جائزہ لے رہا ہے۔‘‘