.

سعودی عرب میں قطر کے نئے سفیر کا تقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امیرقطرشیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے بدھ کو سعودی عرب میں اپنے ملک کے نئے سفیر کا تقررکیا ہے۔انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بحالی کے سات ماہ بعد یہ اقدام کیا ہے۔

شیخ تمیم کے دفتر نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ’’بندر محمد العطیہ کو الریاض میں سفیرنامزد کیا گیا ہے۔وہ اس سے پہلے کویت میں قطر کے سفیر رہ چکے ہیں۔‘‘

یادرہے کہ سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،بحرین اور مصر نے جون 2017ء میں قطرکے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع کرلیے تھے۔انھوں نے اس پر مصر کی قدیم مذہبی سیاسی جماعت الاخوان المسلمون کی پشتیبانی، دوسرے انتہا پسند گروپوں کے علاوہ ایران سے تعلقات استوارکرنے اور ان چاروں ملکوں کے داخلی امور میں مداخلت کا الزام عاید کیا تھا لیکن قطر نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔

اب تک سعودی عرب اور مصر قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرچکے ہیں لیکن یو اے ای اور بحرین نے ابھی تک سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں اور نہ دوحہ میں اپنے سفیروں کا تقرر کیا ہے۔البتہ بحرین نے قطر کے ساتھ تجارتی اور سفارتی روابط بحال کرلیے ہیں جبکہ یو اے ای کا کہنا ہے کہ اعتماد کی فضا سازگاربنانے میں ابھی وقت لگے گا۔

قطر نے گذشتہ ماہ قاہرہ میں بھی اپنے نئے سفیر کا تقرر کیا تھا۔اس سے پہلے مصر نے جون میں دوحہ میں اپنا نیا سفیر مقرر کرنے کااعلان کیا تھا۔سعودی عرب نے بھی جون میں دوحہ میں شہزادہ منصوربن خالد بن فرحان کو اپنا سفیر مقرر کیا تھا۔وہ قطری دارالحکومت میں اپنا منصب سنبھال چکے ہیں اور سفارتی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پانچ جنوری 2021ء کو تاریخی شہر العُلاء میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سربراہ اجلاس کے موقع پر سعودی عرب سمیت چارعرب ممالک نے قطر کے ساتھ جاری تنازع کے خاتمے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے قطر کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات بحال ہوگئے ہیں۔

اس ضمن میں ان ممالک اور قطر کے درمیان العُلا میں ایک سمجھوتا بھی طے پایا تھا۔اس میں خلیجی عرب ممالک کے درمیان اتحاد اور یگانگت کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔خلیج میں جاری اس سفارتی بحران کے خاتمے میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ خلیجی عرب ممالک کو اپنے اختلافات کا خاتمہ کرنا چاہیے اور مل جل کر خطے میں ایران سے درپیش چیلنج کا مقابلہ کرنا چاہیے۔