افغان حکومت کی طالبان کولڑائی کے خاتمے کی صورت میں شراکتِ اقتدارکی پیش کش

طالبان کا کابل اور قندھار کے درمیان شاہراہ پر واقع تزویراتی اہمیت کے حامل شہرغزنی پر بھی قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کے مذاکرات کاروں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کو لڑائی کے خاتمے کے بدلے میں شراکت اقتدار کی پیش کش کی ہے۔

افغان حکومت کے ایک مذاکرات کار نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے اس اطلاع کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ’’حکومت نے قطر کو یہ تجویز پیش کردی ہے۔اس تجویز کے تحت طالبان اگر تشدد روک دیتے ہیں تو افغان حکومت انھیں اقتدار میں شریک کرلے گی۔‘‘قطر اس وقت دوحہ میں جاری مذاکرات میں فریقین کے درمیان ثالث کار کا کردار ادا کررہا ہے۔

ادھر افغانستان میں طالبان نے تزویراتی اہمیت کے حامل جنوبی شہرغزنی پر جمعرات کو قبضہ کر لیا ہے۔یہ شہر افغان دارالحکومت سے 150 کلومیٹر دور جنوب میں قندھار ، کابل شاہراہ پر واقع ہے اور اسی نام کے صوبہ کا صدرمقام ہے۔

طالبان نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں 10 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے اور غزنی پر کنٹرول کو ان کی سب سے بڑی فتح قرار دیا جارہا ہے۔اس سے ان کے لیے کابل کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار ہوجائے گی اور وہ جنوبی صوبوں میں واقع اپنے مضبوط مراکز سے کمک بہم پہنچا سکیں گے۔

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان میرویس ستنکزئی نے اس غزنی کے سقوط کی تصدیق کی ہے اور میڈیا کے لیے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دشمن نے شہر پرکنٹرول حاصل کر لیا ہے لیکن لڑائی اور مزاحمت بدستور جاری ہے۔‘‘

طالبان مئی میں افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کے حتمی انخلا کے آغاز کے بعد سے جارحانہ انداز میں پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے اب تک افغانستان کے بہت سے شہروں اور دیہی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔افغانستان سے امریکااور دوسرے ممالک کے فوجیوں کا انخلا قریب قریب مکمل ہوچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں