.

الجزائر: آگ لگانے کے شُبے میں نوجوان جمال کے بہیمانہ قتل کی تحقیقات کا حکم

الجزائر میں تباہ کن آگ سے ہلاکتوں کی تعداد 69 ہوگئی ،تین روزہ سوگ منانے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر میں پراسیکیوٹرجنرل نے آگ لگانے کے شُبے میں لوگوں کی آتشِ انتقام کا نشانہ بننے والے شخص کی بہیمانہ موت کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔الجزائری شہریوں نے اس مشتبہ شخص کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور پھراس کو آگ لگا دی تھی۔

شمالی افریقا میں واقع الجزائر میں گذشتہ سوموار سے خوف ناک آگ کی تباہ کاریوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک آتش زدگی کے مختلف واقعات میں 69 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان کی یاد میں حکومت کے اعلان کے مطابق جمعرات سے تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پر بدھ کو جاری کردہ ویڈیو فوٹیج کے مطابق ایک مشتعل ہجوم 38 سالہ جمال بن اسماعیل کو تشدد کا نشانہ بنا رہا تھا اور پھر ان بپھرے ہوئے افراد نے اس کو آگ لگا دی۔

یہ اندوہناک واقعہ الجزائر کے قبائلی ریجن میں ضلع تیزی اوزو میں واقع علاقے لاربعا ناث اراثین میں پیش آیا تھا۔ مشتعل ہجوم نے متوفیٰ جمال پرعلاقے میں آگ لگانے کا الزام عاید کیا تھا جس نے بڑی تیزی سے پورے علاقے کو اپنے لپیٹ میں لے لیا تھا اور دور دور تک جنگلات میں پھیل گئی تھی۔

پراسیکیوٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ واقعےکے ذمے داروں کو کڑی سزا دی جائے گی اور اس بہیمانہ جرم میں ملوث افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے الجزائری حکام سے بن اسماعیل کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔الجزائری لیگ برائے انسانی حقوق نے اس واقعہ کو سفاکانہ اور بہیمانہ قرار دیا ہے۔
اس الجزائری گروپ نے ایک بیان میں کہاکہ ’’آگ لگانے کے شُبے میں نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے اور نذرآتش کرنے کے مناظر بہت ہی خوف ناک ہیں۔‘‘

بتایا گیا ہے کہ مقتول نوجوان ایک آرٹسٹ تھا اور وہ گھر سے باہرآگ لگانے نہیں بلکہ بجھانے آیا تھا لیکن دوسرے لوگوں نے اس کو آگ لگانے کا ذمے دار قراردے دیا اور وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا۔

جمال بن اسماعیل کے والد نے صبروتحمل کی اپیل کی ہے اور حکام پر زوردیا ہے کہ وہ ان کے بیٹے کی موت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔

الجزائری حکام نے شُبہ ظاہر کیا ہے کہ آگ کسی آتش گیر مواد سے لگائی گئی تھی کیونکہ مختصر وقت میں دسیوں مقامات پر اچانک آگ لگ گئی تھی۔اب تک آگ لگانے کے شُبے میں چار مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن حکام نے ان کی شناخت یا ان کے آگ لگانے کے مبیّنہ محرکات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔