.

حوثی ملیشیا جنگ کے لیے بھرتی یمنی بچوں کو فرنٹ لائن پربھیجنے کی مرتکب قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی اخبار ’’ دی ٹائمز ‘‘ نے امریکی صدر جو بائیڈن کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے یمن کے بچوں کے سانحے کے حوالے سے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ حوثیوں کے ہاتھوں جنگ کےلیے بھرتی کیے گئے کم عمر بچوں کو لڑائی کے لیے اگلے مورچوں پر دھکیلا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات جاری ہیں اور جنگ بندی کی امید کی جا رہی ہےلیکن واشنگٹن میں حکومت کی تبدیلی نےتوازن تبدیل کردیا ہے۔

برطانوی اخبار نے بین الاقوامی سطح پر تسلیم یمنی شدہ حکومت کے خلاف جنگ میں حوثی ملیشیا کے بچوں کے استحصال کی ہولناک تفصیلات کا انکشاف کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امن مذاکرات کے خاتمے کے بعد لڑائیوں میں شدت آنے کے ساتھ ہی بچوں کو اگلے مورچوں پر بھیجنے اور فرنٹ لائن پرانہیں لڑائی میں شامل کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے گذشتہ مارچ میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا مگر حوثی ملیشیا نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی امن پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔

ٹائمز کے مشرق وسطی کے نامہ نگار رچرڈ اسپینسر نے بتایا کہ ایک موسم گرما کی رات وہ وسطی یمن کے بھورے پہاڑوں پر کھڑا تھا ، جہاں اس نے 13 سالہ محمد کو دیکھا جسے حوثیوں نے جنگ کے لیے پچھلی صف میں رکھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ اس محاذ پر30 اور جنگجو بھی تھے جن میں سے 10 محمد کے ہم عمر تھے۔

محمد کا کہنا ہے کہ اس نے سامنے ایک ہی عمر کے 50 بچوں کو دیکھا اور ایک میزائل دھماکے کو قریب سے دیکھا اور سپاہی اس کے سامنے پھٹتے ہوئے دیکھے۔ اس کے بعد سے اس طرح کے سینکڑوں تصادم ہو چکے ہیں اور حوثیوں کی جانب سے مآرب گورنری پرقبضے کی لڑائی میں بچوں کو بھی جنگ میں جھونک رکھا ہے۔

مزین نامی ایک اور لڑکے جس کی عمر 15 سال ہے نے بتایا کہ اس نے اپنے دوست کے سامنے مارے جانے کے بعد محاذ پر واپس آنے سے انکار کر دیا۔اور جب مزین نے حوثیوں سے فرار ہونے کی کوشش کی تو وہ ان سے تعلق رکھنے والی ایک چوکی پر بھاگ گیا۔ مگر اسے ایک چوکی پر روک لیا گیا۔ وہ سعودی طیاروں کے حملے سے اتفاقیہ طورپر محفوظ رہا۔ وہ ایک غار میں گھس گیا۔ اس دوران طیاروں نے بمباری کرکے حوثیوں کی چوکی اڑا دی۔ جب وہ غار سے باہر آیا تو وہاں چوکی کا وجود نہیں تھا۔ وہاں سے وہ اپنے گھر کی چل پڑا۔