.

فلسطینیوں نے مسجد ابراہیمی میں لفٹ لگانے کی اسرائیلی اسکیم مسترد کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے فلسطین کے تاریخی شہر الخلیل میں قائم مسجد ابراہیمی کا 63 فیصد حصہ نہ صرف یہودی آباد کاروں کے لیے مختص کر رکھا ہے بلکہ صہیونی ریاست آئے روز مسجد ابراہیمی پر اپنی بالا دستی قائم کرنے کےلیے مکروہ ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔

اس کی تازہ مثال منگل 10 اگست کومسجد ابراہیمی میں ایک افقی لفٹ بنانے کا ایک منصوبہ ہے جس کا مقصد یہودی آباد کاروں کی مسجد تک رسائی کو آسان بناتا ہے۔

خیال رہے کہ مسجد ابراہیمی اقوام متحدہ کے ادارہ برائےسائنس وثقافت نے فلسطینی تاریخی ورثے میں شامل کررکھا ہے۔ سنہ 1994 سے اسرائیلی فوج نے مسجد ابراہیمی کو فلسطینیوں کے لیے نیم بند فوجی بیرک میں تبدیل کررکھا ہے جب ایک یہودی آباد کار نے 30 فلسطینی نمازیوں کو اس وقت شہید کر دیا جب وہ فجر کی نماز ادا کر رہے تھے۔

قتل عام کے بعد اسرائیلی حکومت نے مسجد کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ یہودیوں کے لیے مختص کیا گیا۔ یہ حصہ زیادہ ہے جب کہ مسجد کا کم حصہ فلسطینی مسلمانوں کو دیا گیا۔ مسجد کے ابراہیمی، یعقوبی، یوسفی، العنبر اور صحن کو یہودی آباد کاروں کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

اسرائیل کی جانب سے لفٹ کی تعمیر کا آغاز کے ساتھ ہی فلسطین کی جانب سے اس اسکیم کومسترد کر دیا گیا۔ اس لفٹ کا مقصد یہودی آباد کاروں کو مسجد ابراہیمی تک رسائی کی براہ راست سہولت فراہم کرنا تھا۔ دوسری طرف یونیسکو اسرائیل سے بار بار اس تاریخی مقام میں کھدائیوں اور یک طور پرکسی قسم کی تبدیلی کے اقدامات بند کرنے کا مطالبہ کرچکا ہے۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے ’دی انڈیپنڈنٹ عربی‘ کو بتایا کہ اسرائیلی وزارت دفاع کے ملازمین نے اسرائیلی حکومت کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا جس کا مقصد مسجد ابراہیمی کو معذور افراد کے لیے قابل رسائی بنانا ہے۔ اس منصوبے میں ایک لفٹ کی تعمیر اور ایک رسائی کا راستہ شامل ہے جو مسجد تک رسائی کو آسان بناتا ہے تاکہ تمام مذاہب کے اراکین کو مقدس مقام پر عبادت کے لیے سہولت فراہم کی جائے۔

دوسری جانب مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر حفظی ابو سنینا نے کہا کہ لفٹ صرف یہودیوں کے لیے وقف کی جائے گی اور یہ مسجد میں ان کے لیے مخصوص کردہ علاقے میں واقع ہو گی۔ 4،500 مربع میٹر کے رقبے پر مسجد کے صحن کے ذریعے ریسٹ روم اور مسجد کے درمیان رابطے اور رسائی کےلیے لگائی جا رہی ہے۔