.

مراکش اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعاون کے تین سمجھوتوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش اور اسرائیل کے درمیان دو طرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے فیصلے کےبعد دونوں ممالک کے وزرا خارجہ نے دو طرفہ تعاون کے تین اہم معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدوں کی منظوری کے وقت ان پر دستخط اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لبید اور ان کے مراکشی ہم منصب نے کیے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ دو روزہ سرکاری دورے پرکل بدھ کو مراکش پہنچے تھے۔ رباط میں مراکشی وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد دونوں نے سفارتی تعاون ، ثقافت ، کھیل ، نوجوانوں اور فضائی سروسز سمیت کئی شعبوں میںف تعاون کے تین مشترکہ معاہدوں پر دستخط کیے۔

ایک پریس کانفرنس میں مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریتا نے یائیر لبید کے دورے کو "تاریخی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ یہ دورہ موثر تعاون کے طریقہ کار کی بنیاد پر دو طرفہ تعلقات کو ٹھوس مواد دینے میں آگے بڑھنے کے مشترکہ عزم کا عملی نمونہ ہے۔

بوریتا نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کی بحالی مراکش کے بادشاہ محمد ششم کی طرف سے ظاہر کردہ خواہش اور یقین کا اظہارہے جس نے گزشتہ دسمبر میں مراکش-امریکی-اسرائیل سہ فریقی معاہدے پر دستخط کی تقریب کی میزبانی کی تھی۔

مراکش کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے تحقیق کے شعبوں میں تعاون جدت ، سیاحت اور ہوا بازی ، زراعت ، توانائی اور ماحولیات ، اور تجارت اور سرمایہ کاری سمیت ہم آہنگی کے لیے تحقیقی ٹیمیں قائم کی ہیں اور آج ہم نے 3 معاہدوں پر دستخط کیے ، اور 10 دیگر معاہدے زیرِغور ہیں۔

اس موقعے پر اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لیبد نے مراکش اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کی بحالی کی تعریف کی اور کہا کہ یہودی تین ہزار سالوں سے مراکش میں مقیم ہیں اور وہ یہاں صدیوں سے مراکش کے ساتھ امن کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ اس لیے اسرائیل میں ہزاروں یہودیوں کا مراکش کے ساتھ جذباتی تعلق ہے۔ ج ہم ان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

ان کے دو روزہ دورے میں رباط میں اسرائیلی رابطہ دفتر کا افتتاح متوقع ہے۔ اپنے مراکشی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ آج ہم امن کا راستہ چن رہے ہیں۔ برسوں کی دشمنی اور لا حاصل تنازعات کے بعد ہم آج یہاں اس صورتحال کو بدلنے کے لیےجمع ہوئے ہیں تاکہ خوشحالی اور ترقی نئی منزل کی طرف بڑھا جاسکے۔