.

ٹرمپ نے صدربائیڈن کوافغانستان میں طالبان کے’ناقابل قبول‘تشدد کا ذمہ دارقراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے جانشین صدر جوبائیڈن پرافغانستان میں طالبان کی تشدد آمیز کارروائیوں میں اضافے کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے جنگ زدہ ملک سے امریکی فوج کے انخلا کی کوئی شرائط نہیں رکھی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اگراب بھی صدرامریکا ہوتے تو افغانستان سے فوج کاانخلا بالکل مختلف انداز میں اور زیادہ کامیاب ہوتا۔واضح رہے کہ صدر جوبائیڈن نے افغانستان سے امریکا کے انخلا کی تاریخ 31 اگست مقرر کی تھی لیکن اس سے پہلے ہی امریکی اور نیٹو فوجوں کا انخلا مکمل ہوچکا ہے۔

صدرٹرمپ کی انتظامیہ نے 29 فروری 2020ء کو دوحہ میں طالبان کے ساتھ امن سمجھوتا طے کیا تھا اور اس میں یہ طے پایا تھا کہ امریکا یکم مئی 2021ء تک مختلف سکیورٹی ضمانتوں کے بدلے میں اپنی تمام فوج کو افغانستان سے واپس بلا لے گا۔ان میں ایک اہم شرط یہ تھی کہ طالبان امریکی مفادات کوحملوں میں نشانہ نہیں بنائیں گے اور القاعدہ کو پناہ نہیں دیں گے۔

صدر بائیڈن نے 20 جنوری کو اقتدار سنبھالنے کے بعد انخلاء کی حتمی تاریخ 31 اگست تک بڑھا دی تھی لیکن انھوں نے فوجیوں کو واپس بلانے کے بدلے میں طالبان کے سامنے کوئی نئی شرائط نہیں رکھی تھیں۔

ان کے پیش روصدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’اگر اس وقت میں صدر ہوتا تو دنیا یہ دیکھتی کہ افغانستان سے ہمارا انخلا شرائط پر مبنی ہوتا اور طالبان اس بات کو کسی دوسرے سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ میں نے طالبان کے سرکردہ لیڈروں سے بات چیت کی تھی اور اس میں انھوں نے یہ تاثردیا تھا کہ اگر وہ ایسا کریں گے جو کچھ وہ اس وقت ملک میں کررہے ہیں تو اس کو قبول نہیں کیا جائے گا۔‘‘

لیکن سابق صدر نے یہ نہیں بتایا ہے کہ اگر وہ صدارتی انتخاب جیتنے کے بعد اس وقت برسراقتدار ہوتے تو افغانستان میں تشدد کو روکنے کے لیے کیا کیا اقدامات کرتے۔

طالبان مئی میں غیرملکی فوجیوں کے حتمی انخلا کے آغاز کے بعد سے ملک کے طول وعرض میں جارحانہ انداز میں پیش قدمی کررہے ہیں۔انھوں نے اب تک افغانستان کے بہت سے مغربی اور شمالی شہروں اور دیہی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

طالبان نے جمعرات کے روزتزویراتی اہمیت کے حامل جنوبی شہرغزنی ، قندھار اور مغربی شہر ہرات پر قبضہ کر لیا ہے۔غزنی شہر افغان دارالحکومت سے 150 کلومیٹر دور جنوب میں قندھار ، کابل شاہراہ پر واقع ہے اور اسی نام کے صوبہ کا صدرمقام ہے۔ہرات ایران کی سرحد کے نزدیک واقع ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔

طالبان نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں 11 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔قندھار اورغزنی پر کنٹرول کو ان کی سب سے بڑی فتح قرار دیا جارہا ہے۔اس سے ان کے لیے کابل کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار ہوجائے گی اور وہ جنوبی صوبوں میں واقع اپنے مضبوط مراکز سے کمک بہم پہنچا سکیں گے۔

اس وقت افغان صدر اشرف غنی کی حکومت کا دارالحکومت کابل اور دوردراز پہاڑی علاقوں میں واقع شہروں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے اور وہ بھی سقوط کے خطرے سے دوچار ہیں۔بعض امریکی عہدےداروں نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ طالبان 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد تین ماہ کے اندر کابل کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔