.

افغانستان سے امریکی شہریوں کو نکالنے کے لیے فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورت حال کے پیش نظر امریکا اور برطانیہ نے وہاں سے اپنے شہریوں کے بحفاظت انخلا کے لیے فوری طور پر فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ تین ہزار جب کہ برطانیہ اپنے چھ سو فوجی بھیج رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ کابل کے امریکی سفارت خانے میں تعینات سویلین عملے میں کچھ کمی کی جا رہی ہے اور کچھ ارکان کو واپس بلایا جا رہا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ کابل کا سفارت خانہ بند نہیں کیا جا رہا۔ تاہم، سیکیورٹی اور امن وامان کی صورت حال کے پیش نظر، دیگر اقدامات کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

ادھر امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ امریکہ اپنے تین ہزار اضافی فوجی افغانستان بھیج رہا ہے جو کابل میں امریکی سفارتی عملے کے انخلاء میں مدد دیں گے۔

امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ یہ فوجی افغانستان میں پہلے سے موجود 650 فوجیوں سے جا ملیں گے۔

اس سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا تھا کہ افغانستان میں سیکیورٹی کی تیزی سے بگڑتی صورتِ حال کے پیشِ نظر امریکہ کابل میں اپنے سفارت خانے کے عملے میں کمی کر رہا ہے اور کچھ عملہ واپس بلا رہا ہے۔ تاہم سفارت خانہ اپنا کام کرتا رہے گا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور بین الاقوامی برادری طالبان کی جانب سے طاقت کے ذریعے اقتدار کے حصول کی کسی بھی کوشش کی کسی طور پر حمایت نہیں کرے گی۔

ترجمان نے بتایا کہ ''ہم بین الافغان اور افغان قیادت کے تحت ہونے والی امن بات چیت کی مکمل حمایت جاری رکھیں گے۔''