.

افغانستان کے علاقے ھلمند اور غور مزاحمت کے بغیر طالبان کے کنڑول میں آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ جمعہ کے روز تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے طالبان نے جنوبی افغانستان کے صوبے ھلمند کے صدر مقام لشکر گاہ پر قبضہ کر لیا ہے۔

افغانستان سے آنے والی اطلاعات میں بتایا جا رہا ہے کہ طالبان نے وسطی افغانستان کے صوبے غور پر بھی کسی مزاحمت یا لڑائی کے بغیر قبضہ کر لیا ہے۔

لشکر گاہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شہر کا کنڑول سنبھالنے کے بعد طالبان نے وہاں متعین افغان فوجیوں، سیاسی عمائدین اور کابل حکومت کو جوابدہ انتظامیہ کے عہدیداروں کو حفاظت کے ساتھ علاقے سے نکلنے کی اجازت دے دی۔

ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ طالبان نے لشکر گاہ کو خالی کروانے کا فیصلہ کیا۔ پھر وہاں 48 گھنٹے کے لیے فائر بندی کا اعلان کر دیا گیا تاکہ اشرف غنی کی حامی فوج اور سول انتظامیہ کے عہدیدار کو شہر سے باہر جانے کا محفوظ راستہ دیا جا سکے۔

افغانستان کے وسطی علاقے غور کے گورنر زلمے کریمی نے ’’اے ایف پی‘‘ کو بتایا کہ طالبان جنگجوؤں نے جمعہ کی صبح کسی مزاحمت کے بغیر غور صوبے کے صدر مقام چغچر کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

ادھر طالبان نے افغانستان کے دوسرے اہم ترین شہر قندھار کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا۔تفصیلات کے مطابق غزنی اور ہرات مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں جا چکے ہیں جس کے بعد طالبان کے زیر قبضہ صوبوں کی تعداد 12 ہو گئی ہے۔

افغانستان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان کی دارالحکومت کی جانب پیش قدمی تیزی سے جاری ہے اور طالبان کابل سے صرف 130 کلومیٹر دور رہ گئے ہیں۔طالبان اب شمالی افغانستان کے بیشتر حصے اور ملک کے تقریبا ایک تہائی علاقائی دارالحکومتوں پر قابض ہیں۔

قندھار پر قبضہ طالبان کی بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ یہ شہر کبھی طالبان کا گڑھ تھا۔ اور ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر حکمت عملی کے لحاظ سے اہم شہرہے۔

افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی میں گذشتہ چند دن کے دوران تیزی دیکھی گئی ہے اور انھوں نے ایک ہفتے میں 12 اہم شہروں پر قبضہ کرلیا ہے۔طالبان کے کنٹرول میں جانے والے شہروں میں قندوز، سرِ پل، تالقان، سمنگان، شبرغن، زرنج، غزنی، ہرات، جوزبان، بادغیس اور لشکرگاہ شامل ہیں۔