.

ایرانی پاسداران انقلاب سے منسلک تیل اسمگلرنیٹ ورک پرامریکی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل جمعہ کو امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس نے ایک ایسے شخص پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ تیل کی اسمگلنگ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت نےایرانی کمپنیوں پر بھی پابندیاں عاید کی ہیں جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کو مدد فراہم کرتی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ محکمے کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے ایک فرد اور کمپنیوں کے نیٹ ورک کو پابندیوں کا نشانہ بنایا ہے۔

بیان کے مطابق اس شخص نے قدس فورس کے سینیر رہ نماؤں کے ساتھ شراکت کی اور مشرقی ایشیا میں خریداروں سمیت غیر ملکی گاہکوں کو ایرانی تیل کی ترسیل کی سہولت کے لیے کئی کمپنیوں کا استعمال کیا۔

بیان میں وضاحت کی گئی ہے کہ پابندیوں کے ذریعے اسمگلنگ نیٹ ورک ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر عہدیدار استعمال کرتے ہیں۔ تیل کی اسمگلنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی خطے میں "علاقائی عدم استحکام کی سرگرمیوں" کے لیے بھیجی جاتی ہے۔

دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کے ڈائریکٹر آندریا جیکی نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو ایرانی تیل کی فروخت اہم غیرملکی ایجنٹوں پر انحصار کرتی ہے جو فیلق القدس کو اس میں ملوث ہونے کو مخفی رکھنے پر کام کرتے ہیں۔

پاسداران انقلاب
پاسداران انقلاب

بیان میں اشارہ کیا گیا ہے کہ پابندیوں میں امریکی دائرہ اختیار میں تمام جائیداد اور متعلقہ مفادات تک رسائی سے انکار اور پابندیوں کی فہرست میں شامل افراد شامل ہوں گے۔

اسی تناظر میں امریکی وزیر خارجہ نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہم قدس فورس اور ایرانی پاسداران انقلاب کے حامیوں کی سرگرمیوں کو بے نقاب کرتے اور ان میں خلل ڈالتے رہیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قدس فورس، ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک بازو ایرانی تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو اپنی "بدنیتی کی سرگرمیوں" کے لیے استعمال کرتی ہے اور اپنے کردار کو چھپانے کے لیے غیر ملکی ایجنٹوں کا استعمال کرتی ہے۔