.
افغانستان وطالبان

طالبان کا خوف، افغان خاتون کی جان بچانے میں مدد کے لیے فریاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت میں جب طالبان کی تحریک پورے افغانستان میں ڈرامائی انداز میں تیزی کے ساتھ صوبے فتح کر رہی ہے افغان خواتین اپنی زندگیوں اور پچھلے 20 سالوں میں مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کے چھن جانے سے خوفزدہ ہیں۔

اس تناظر میں ’بی بی سی‘ کی ایک پیش کار اور نامہ نگار یالدا حکیم نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام پوسٹ کیا ہے جو اسے واٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوا۔ اس پیغام میں طالبان کی وجہ سے افغان خواتین میں پائے جانے والےخوف کو بہ خوبی دیکھا جاسکتا ہے۔

یالداحکیم نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ افغان خواتین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔ ان میں سے بہت سی طالبان کی ملک پر قبضے اور اس کے نتائج کے خوف کی وجہ سے مدد کی بھیک مانگ رہی ہیں۔

یالدا حکیم کے شائع کردہ فریاد پر مبنی پیغام میں ایک افغان خاتون جو کہ میڈیا فیلڈ میں کام کرتی نظر آتی ہے حکیم سے التجا کرتی ہے کہ وہ اسے افغانستان سے نکالنے میں مدد کرے۔ اس کا کہنا ہے کہ "میں آپ سے یہاں سے نکلنے میں مدد کرنے کے لیے کہتی ہوں تاکہ میں بیرون ملک اپنی تعلیم جاری رکھ سکوں‘۔

خاتون نے مزید کہا کہ ’ان دنوں افغانستان کے حالات خراب تر ہو رہے ہیں۔ میں نے ایک پروگرام تیار کیا ہے جو خواتین کے حقوق ، افغان فوج اور افغانستان میں ترقی کی نمائندگی کرتا ہے۔ میں نہیں جانتی کہ میں یہاں زندہ رہوں گی یا ماری جاؤں گی‘۔

اس نے اپنے پیغام میں لکھا کہ اگر آپ میری یہاں سے نکلنے میں مدد کرتے ہیں تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ میں مزید کام کروں گی اور ایک کارآمد شہری بنوں گ اور اپنے ملک کی خدمت کروں گی۔ میں بیرون ملک رہ کربھی اپنے وطن کی خدمت کر سکتی ہوں۔