.
افغانستان وطالبان

طالبان کا شمالی شہرمزارِشریف پرقبضہ ،افغان حکام کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان نے اپنی پیش قدمی تیز رفتاری سے جاری رکھی ہوئی ہے اور انھوں نے صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزارِشریف پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔بلخ سے تعلق رکھنے والے قانون سازعباس ابراہیم زادہ نے شہر کے سقوط کی تصدیق کی ہے۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ’’طالبان نے جمعہ کو مزارشریف پر کنٹرول کے لیے افغان سکیورٹی فورسز پر ایک بھرپور حملہ کیا تھا۔اس کے بعد پہلے توافغان نیشنل آرمی کے دستوں نے ہتھیار ڈال دیے۔اس سے حکومت نواز ملیشیاؤں کے حوصلہ ٹوٹ گئے اور انھوں نے بھی طالبان کے مقابلے میں راہ فرار اختیار کرنے میں عافیت جانی ہے۔‘‘

بلخ افغانستان کا دوسرا بڑا صوبہ ہے اور اس کا دارالحکومت مزار شریف ملک کا چوتھا بڑا شہر ہے۔عباس ابراہیم زادہ کے بہ قول شہر میں تمام صوبائی دفاتر اورگورنر کے دفتر سمیت تمام تنصیبات اور فوجی ہیڈکوارٹر اب طالبان کے ہاتھ میں ہیں۔

انھوں نے اس اہم تجارتی مرکز اور دفاعی لحاظ سے مضبوط سمجھے جانے والے شہر پر مختلف اطراف سے بڑاحملہ کیا تھا۔بدنام زمانہ جنگی سردار عبدالرشید دوستم کے زیرقیادت ملیشیا اور سرکاری سکیورٹی فورسز نے اس شہر کو سقوط سے بچانے کے لیے طالبان کا حملہ روکنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام رہیں۔طالبان کے شہرمیں داخلے کے بعد دوستم اور ایک اور جنگی سردارعطا محمدنور اور ان کے وفادار جنگجو شہر سے فرار ہوگئے ہیں۔

طالبان نے امریکا کے افغانستان سے تمام فوجیوں کے مکمل انخلا سے تین ہفتے قبل ملک کے شمال، مغرب اور جنوب میں واقع 22 صوبوں پر کنٹرول کر لیا ہے۔اس کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ان کا بہت جلد افغان دارالحکومت پر بھی کنٹرول ہوجائے گا اور پھر ملک میں خونریزخانہ جنگی چھڑ سکتی ہے۔صدر اشرف غنی کی حکومت اور اس کے تحت افغان سکیورٹی فورسز کا اب صرف کابل اور 12 صوبوں پر کنٹرول باقی رہ گیا ہے۔

طالبان جنگجوؤں نے ہفتے کے روز تین اور صوبائی دارالحکومتوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے اورافغان دارالحکومت کابل کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔طالبان نے کابل کے جنوب میں واقع صوبہ لوگر پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور وہاں کے مقامی حکام کو حراست میں لے لیا ہے۔لوگر سے تعلق رکھنے والی رکن پارلیمان ہدا احمدی کا کہنا ہے کہ طالبان ضلع چارآسیاب پہنچ چکے ہیں۔ یہ ضلع کابل سے صرف سات کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔

طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے ساتھ واقع سرحدی صوبہ پکتیکا کے دارالحکومت شرانا میں بھی اپنی عمل داری قائم کر لی ہے۔اس شہر میں ہفتے کی صبح طالبان اور افغان سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی چھڑی تھی لیکن مقامی قبائلی سرداروں کی مداخلت کے بعد فریقین کے درمیان سرکاری حکام کے شہر سے انخلا پر اتفاق رائے ہوگیا تھا اور صوبائی گورنر اور دوسرے حکام ہتھیار ڈالنے کے بعد دارالحکومت کابل کی جانب چلے گئے ہیں۔

طالبان جنگجوؤں نے اپنی زمینی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے شمالی صوبہ فاریاب کے دارالحکومت میمنہ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔انھوں نے گذشتہ ایک ماہ سے میمنہ کا محاصرہ کررکھا تھا۔ وہ چند روز قبل ہی شہر میں داخل ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز نے صورت حال ہاتھ سے نکلنے کے بعد مزید خونریزی سے بچنے کے لیے آخرکار ہتھیارڈال دیے ہیں۔