.
افغانستان وطالبان

کیا طالبان افغان بنکوں میں ملازمت پیشہ خواتین کو گھر بیٹھنے پرمجبورکررہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان کی حالیہ تیز رفتار فتوحات کے بعد روز نئے حالات وواقعات سامنے آرہے ہیں،انھوں نے ملک کے قریباً ایک تہائی شہروں اور قصبوں پر قبضہ کر لیا ہے اور وہ وہاں اب اپنا نظام نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔بنکوں میں ملازمت کرنے والی بعض خواتین کاکہنا ہے کہ طالبان اب انھیں کام کرنے کی اجازت دینے کے وعدے سے پھررہے ہیں اور انھیں ملازمتیں خیرباد کہنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے 1996ء سے 2001ء تک افغانستان میں اپنی حکومت کے پہلے دورمیں سخت اسلامی قوانین کا نفاذ کیا تھا اور خواتین کے گھر سے باہر کام پر پابندی عاید کردی تھی۔انھوں نے گذشتہ مہینوں میں متعدد مرتبہ یہ کہا تھا کہ وہ کابل میں برسراقتدارآنے کے بعد خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔

لیکن اب امریکا اور دوسرے مغربی ممالک اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ طالبان افغانستان میں گذشتہ دوعشروں میں خواتین کو حاصل ہونے والی بہت سے آزادیوں پر قدغنیں لگا دیں گے۔وہ ان کے کام اور حصول تعلیم کے حق پر بھی پابندی لگادیں گے۔

طالبان نے اپنے زیرقبضہ علاقوں میں ابھی سے اپنے من چاہے اقدامات شروع کردیے ہیں۔اسی ماہ کے اوائل میں بعض مسلح طالبان جنگجو جنوبی شہر قندھار میں واقع عزیزی بنک میں گئے تھے۔انھوں نے وہاں کام کرنے والی نو خواتین کو ساتھ لیا تھا اورانھیں واپس ان کے گھروں میں چھوڑ آئے تھے۔انھوں نےساتھ ہی انھیں اور ان کے بنک مینجر کو ہدایت کی تھی کہ اب وہ کام پر نہیں آئیں بلکہ ان کی جگہ ان کے مرد رشتہ داروں کو ملازم رکھا جائے۔

یہ تمام تفصیل بنک میں کام کرنے والی تین خواتین اور مینجر نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتائی ہے۔اس کے دوروز کے بعد مغربی شہر ہرات میں بھی ایسا واقعہ رونما ہوا تھا اور وہاں ’بنک ملی‘ میں کام کرنے والی دو خواتین کیشئرز سے کہا گیا کہ وہ گھروں میں بیٹھ رہیں۔اب ان کی جگہ ان کے مرد رشتہ دار بنک میں کام کرنا شروع ہوگئے ہیں۔

تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ’’ابھی ان کے کنٹرول میں آنے والے علاقوں میں بنکوں میں ملازمت کرنے والی خواتین کو کام کی اجازت دینے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ملک میں امارت اسلامیہ کے نظام کے قیام کے بعدقانون سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا اور ان شاء اللہ اس ضمن میں کوئی مسائل نہیں ہوں گے۔‘‘

طالبان نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں 11 صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دو روز پہلے قندھار اورغزنی پر کنٹرول کو ان کی سب سے بڑی فتح قرار دیا جارہا ہے۔اس سے ان کے لیے کابل کی جانب پیش قدمی کی راہ ہموار ہوجائے گی اور وہ جنوبی صوبوں میں واقع اپنے مضبوط مراکز سے دارالحکومت کی جانب کمک بہم پہنچا سکیں گے۔