.
افغانستان وطالبان

ہرات کی فتح کے بعد طالبان کا شہرمیں تفریح سے لطف اندوز ہونے کا منظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر شائع کی گئی ایک تصویر میں دکھایا گیا ہے کہ طالبان عسکریت پسندوصوبہ ہرات کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد شہر میں کھیلوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔طالبان ایک تفریح پارک میں موجود بچوں کے کھیلنے کے لیے بنائی گئی الیکٹرک گاڑیوں میں بیٹھے دیکھے جا سکتے ہیں۔

افغانستان میں طالبان کی تحریک روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ جمعہ کو اس نے ملک کے جنوب میں صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ کا کنٹرول سنبھال لیا اور شہر کو سیاسی اور انتظامی طور پر صاف کرنے کے لیے 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی منظوری دی تاکہ حکام اور افغان فوج وہاں سے نکل سکے۔

اسی دن اس نے کابل سے 50 کلومیٹر دور لوگر صوبہ کے دارالحکومت بولی علم شہر پر قبضہ کر لیا۔ اسی وقت غور کے گورنر کے ترجمان نے اعلان کیا کہ طالبان نے ملک کے مرکز میں بغیر کسی مزاحمت کے اس صوبے کے دارالحکومت شگشران کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

طالبان نے جمعرات/جمعہ کی رات کو افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندھار پر اپنے کنٹرول کا اعلان کیا تھا لیکن سرکاری افواج اب بھی اس اہم شہر کے ہوائی اڈے پر موجود ہیں۔

جمعہ کے روز طالبان نے افغانستان میں اپنی پیش قدمی جاری رکھی جبکہ امریکا اور برطانیہ نے دارالحکومت کابل کو لاحق خطرے کے پیش نظر اپنے شہریوں اور سفارتکاروں کونکالنے کا فیصلہ کیا۔

8 دنوں کے اندر تحریک طالبان نے نصف کے قریب افغان صوبوں کے دارالحکومتوں پر قبضہ کیا ہے۔ طالبان اس وقت ملک کے شمال ، مغرب اور جنوب کے بڑے حصے کو کنٹرول کرتے ہیں۔

صرف تین بڑے شہر حکومتی اختیار میں رہے ہیں جن میں دارالحکومت کابل ، مزار شریف اور جلال آباد جیسےشہر شامل ہیں۔