.

اشرف غنی نے کابل نہ چھوڑا تو مارے جائیں گے: سابق مشیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں تیز رفتار سیاسی اور فیلڈ پیش رفت کے جلو میں افغان صدر کے سابق مشیر طارق فرہادی نے خبر دار کیا ہے کہ اگر صدر اشرف غنی نے کابل نہ چھوڑا تو ان کی جان کو خطرہ ہے اور وہ مارے جائیں گے۔

آج اتوار کو جنیوا سے ’العربیہ‘ ٹی وی چینل کو دیے گئےانٹرویو میں طارق فرہادی نے کہا کہ طالبان دارالحکومت کابل میں داخل ہونے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ افغان صدر اشرف غنی امریکا کے لیے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر غنی نے دو دن کے اندر افغانستان نہیں چھوڑا تو وہ مارے جائیں گے۔

طالبان نے دارالحکومت کا محاصرہ کرلیا

طالبان اتوارتک افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قابض ہوچکے ہیں جس کے بععد ان کے کابل میں داخلے اور اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔۔ طالبان کابل میں داخل ہوچکے ہیں تاہم فی الحال دارالحکومت میں لڑائی نہیں ہو رہی بلکہ طالبان جنگجووٗں کو کہا گیا ہے کہ وہ اگلے احکامات کا انتظار کریں کیونکہ حکومت کے ساتھ اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ حکومت نے اقتدار پرامن طریقے سے منتقل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹر پر لکھا کہ امارت اسلامیہ اپنی تمام افواج سے کہتی ہے کہ وہ کابل کے داخلی راستوں پر رہیں اور شہر میں داخل ہونے کی کوشش نہ کریں۔

تحریک نے وعدہ کیا کہ موجودہ حکومت کے لیے کام کرنے والے فوجی اور سرکاری ملازمین سمیت کسی کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

درایں اثنا افغان وزیر داخلہ عبدالستار مرزا اکوال جنہوں نے افغانیوں پر "پریشان نہ ہونے" پر زور دیا ہے نے تصدیق کی ہے کہ ایک عبوری حکومت کو اقتدار کی پرامن منتقلی پر بات ہو رہی ہے۔

طالبان کے وعدوں کے باوجود اس کے جنگجو محصور دارالحکومت کے ایک دور دراز مضافاتی علاقے میں دیکھے گئے جہاں خوف و ہراس کی کیفیت تھی ، لیکن کوئی تصادم نہیں ہوا۔

اشرف غنی کے چیف آف سٹاف نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ خوفزدہ نہ ہوں کابل محفوظ ہے۔

اتوار کے روز باغیوں نے مشرقی افغانستان کے بڑے شہر جلال آباد کو کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ چند گھنٹوں کے بعد انہوں نے مزار شریف پر قبضہ کر لیا جو کہ افغانستان کا چوتھا بڑا شہر اور ملک کے شمال میں سب سے بڑا شہر ہے۔

طالبان جنہوں نے امریکی اور غیر ملکی افواج کے حتمی انخلا کے آغاز کے ساتھ مئی میں اپنی کارروائی شروع کی تھی صرف دس دنوں میں ملک کے بیشتر حصے پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔