.
افغانستان وطالبان

طالبان صدارتی محل میں داخل، کابل میں مشمولہ عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے کوشاں

جنگجوؤں کووسط کابل میں داخلے کے بعد شہریوں کے جان ومال اور سرکاری تنصیبات کے تحفظ کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان سے سبکدوش صدر اشرف غنی اور ان کے نائب امراللہ صالح کی بیرون ملک روانگی کے بعد طالبان کابل میں صدارتی محل میں داخل ہوگئے ہیں۔ وہ پُرامن انتقال اقتدار اور نئی عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے کوشاں ہیں۔طالبان کے قائدین اس ضمن میں افغان حکومت کے ہم خیال عہدے داروں اور دوسرے گروپوں سے بھی بات چیت کررہے ہیں۔

طالبان کے دو سینیرکمانڈروں نے اتوار کو صدر اشرف غنی کی روانگی کے بعد صدارتی محل پر کنٹرول کی تصدیق کی ہے۔البتہ افغان حکومت کی دارالحکومت میں موجود باقیات ،بچے کچھے عہدے داروں میں سے کسی نے طالبان کے اس دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

قبل ازیں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ پُرامن انتقال اقتدار چاہتے ہیں اور وہ ایک ایسی مشمولہ نئی حکومت چاہتے ہیں جس میں تمام افغان گروپوں کی نمایندگی ہو۔وہ خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ان کی نئی حکومت میں انھیں تعلیم اورکام کی آزادی ہوگی۔

طالبان کے ایک اور ترجمان نے کہا کہ جنگجوؤں کو اشرف غنی کے اقتدار چھوڑنے اورملک سے روانگی کے بعد کابل کے وسط میں داخل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

طالبان کے جنگجو دارلحکومت کابل میں عوام کے درمیان
طالبان کے جنگجو دارلحکومت کابل میں عوام کے درمیان

ترجمان نے کہا کہ طالبان جنگجوؤں کو پولیس اور حکام کے شہر سے فرار کے بعد شہریوں کے جان ومال کے تحفظ اور لوٹ مار کے واقعات کو رونما ہونے سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ شہر میں کسی بھی طرح امن وامان کی صورت حال پیدا نہ ہو۔

دریں اثناء طالبان نے افغانستان اور پاکستان کے درمیان واقع طورخم بارڈر کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔وہ ملک بھر میں اپنے زیرقبضہ آنے والے علاقوں میں اپنی گرفت مضبوط بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔افغانستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق طالبان کواتوار کو کابل یا دوسرے علاقوں میں افغان سکیورٹی فورسز کی کسی زیادہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔