.

بیت المقدس : اسرائیلی کھدائی کے دوران اردنی فوجی کی باقیات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی عصے میں جاری اسرائیلی کھدائی میں 1697ء کی جنگ کے مزید آثار دریافت ہو رہے ہیں۔ یہ جنگ مغربی کنارے میں اردن اور اسرائیل کی فوجوں کے درمیان ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل نے فلسطین کا بقیہ حصہ بھی ہتھیا لیا۔

تقریبا 54 برس قبل ہونے والے اس شدید معرکے میں مغربی کنارے میں تقریبا 572 اردنی فوجی جاں بحق ہوئے تھے۔ اس دوران میں بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں ہونے والا "تل المدور" کا معرکہ جنگ کی ایک نمایاں ترین لڑائی تھی۔ اس معرکے میں اردن کے 70 اور اسرائیل کے 36 فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

بیت المقدس کے علاقوں کے بیچ ٹرین منصوبے کے سلسلے میں اسرائیلی کھدائی کے دوران میں ایک اسرائیلی مؤرخ کو ایک اردنی فوجی کی باقیات ملیں۔

ساتھ ہی فوجی کی بندوق، گولیوں کا پیکٹ، اس کا خنجر، ہیلمٹ اور اس کی گھڑی بھی ذاتی پیج پر پوسٹ میں ایک اردنی فوج کی باقیات دریافت ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فوجی تل المدور کے معرکے میں شریک تھا۔ معوز کا کہنا ہے کہ یہ دریافت تو ابتدا ہے اور اس مقام پر بہت سی کہانیاں مدفون ہیں۔

اردن کی فوج نے مذکورہ فوجی کی شناخت کے لیے ایک خصوصی کمیٹی تل ابیب بھیجی۔

چار برس قبل اردن کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ بیت المقدس کے جنوب میں صور باہر قصبے میں ایک اردنی فوجی کی باقیات ملی ہیں۔ یہ باقیات بیت المقدس کی بلدیہ کی جانب سے 'الجرس عسکری کیمپ' کا صفایا کرنے کے دوران میں برآمد ہوئیں۔ یہ کیمپ 1948ء کا تھا اور یہ اردن کی فوج کے زیر انتظام تھا۔