.

حوثی ملیشیا کی جانب سے ٹیکسوں کی آڑ میں عوام کی جیبوں سےنکالی رقم دوگنا ہوگئی

حوثی ملیشیا ماہانہ 60 ارب یمنی ریال جمع کرنے لگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں صنعاء میں ٹیکس اتھارٹی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ملیشیا کی جانب سے ٹیکسوں سے جمع کی گئی رقم گذشتہ برسوں میں دگنی ہو گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ دارالحکومت صنعا میں ملیشیا کے زیر انتظام ٹیکس اتھارٹی کی طرف سے جمع کی گئی کل رقم 60 ارب یمنی ریال سے تجاوز کر گئی ہے جو ملیشیا نے گذشتہ برسوں کے دوران ٹیکس میں جمع کی گئی رقم سے دگنی ہے۔

حوثی ملیشیا کے کنٹرول میں ٹیکس اتھارٹی کے ذریعہ جمع کیے گئے "سینیر ٹیکس دہندگان" ٹیکس فنڈز کی مالیت 2019 میں 20 ارب ریال فی مہینہ سے بڑھ کر 40 ارب ریال فی مہینہ ہو گئی جوکہ مجموعی طورپر 66 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔ دیگر ٹیکس فنڈز کی مالیت بھی 20 ارب یمنی ریال سے بڑھ گئی جو کہ پچھلے سالوں کے مقابلے میں دوگنا اضافہ ہے۔

"نیوز یمن" نیوز ویب سائٹ کے مطابق ذرائع کاکہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اکٹھے کیے گئے ٹیکس کے پیسے کی زیادہ قیمت جمع شدہ ٹیکس کی فیصد میں جان بوجھ کر اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ رقم "بڑے ٹیکس دہندگان" اور باقی دیگر ٹیکس اڈوں سے جمع کی گئی ہے۔ کچھ ٹیکس دہندگان یا اداروں پر 100 فیصد سے زیادہ ٹیکس بڑھائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملیشیا کے رہ نما صنعاء کے مرکزی بینک میں سود کے کھاتوں میں ان فنڈز کو جمع کرنے کے بجائے انھیں نامعلوم کھاتوں میں رکھنے پراصرار کرتے ہیں یا انہیں کئی علاقوں میں ملیشیا اور ان کے رہ نماؤں کے لیے سرمایہ کاری میں منتقل کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ زمین اور رئیل اسٹیٹ کی خریداری اور اسپتالوں ، اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے شعبے میں سرمایہ کاری بھی رقم لگائی جاتی ہے۔

ٹیکسوں کی شکل میں جمع کی گئی رقم کا یہ حجم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی ملیشیا دارالحکومت صنعاء اور اپنے زیرتسلط باقی علاقوں میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائی میں ٹال مٹول کررہی ہے۔