.
افغانستان وطالبان

طالبان کے کابل داخلے اور اقتدار کی پرامن منتقلی کے لیے مذاکرات کی اطلاعات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان جنگجو داخل ہونا شروع ہو گئے ہیں جب کہ امریکہ نے اپنے سفارتی عملے کو بذریعہ ہیلی کاپٹرز سفارت خانے سے نکال لیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' کے مطابق افغان وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کابل میں تمام اطراف سے داخل ہو رہے ہیں۔

وزارتِ داخلہ نے مزید کوئی معلومات نہیں دیں کہ طالبان جنگجو تعداد میں کتنے ہیں اور وہ اب تک کن مقامات تک پہنچ چکے ہیں۔

البتہ افغان صدارتی محل کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کابل کے دور دراز علاقوں میں فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور دفاع کے لیے افواج بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور وہ کابل کی سیکیورٹی کو یقینی بنا رہے ہیں۔

طالبان نے تمام افغان شہریوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی شخص کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔

طالبان عہدیداران نے 'رائیٹرز' کو بتایا ہے کہ "ہم نے اب تک جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا لیکن ملک کے نظام سنبھالنے کے دوران ہم یقین دلاتے ہیں کہ کسی بھی شخص کو نقصان پہنچانا یا قتل کرنا نہیں چاہتے۔"

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق طالبان کے حکام نے کہا ہے کہ دارالحکومت کابل میں کسی بھی شخص کی جان، املاک اور عزت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

'رائیٹرز' کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں کو سفارت خانے سے ضلع وزیر اکبر خان میں واقع ایئرپورٹ لے جایا گیا ہے۔

اس سے قبل امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے ہفتے کو مزید ایک ہزار اہلکار کابل بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ صدر بائیڈن نے کابل سے سفارتی عملے اور اتحادیوں کے محفوظ انخلا کے لیے تین ہزار اہلکاروں کو روانہ کرنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔

طالبان افغان دارالحکومت کابل میں ایسے موقع پر داخل ہور ہے ہیں جب کہ انہوں نے گزشتہ چند روز کے دوران کئی اہم صوبوں کا کنٹرول سنبھالا ہے۔

ہفتے کو ہی جنگجوؤں نے صوبہ ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد پر کسی بھی مزاحمت کے بغیر قبضہ کیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق جنگجوؤں نے کسی بھی خاطر خواہ مزاحمت کے بغیر جلال آباد پر قبضہ کیا اور اس موقع پر جنگجو شہر کے مختلف علاقوں میں دندناتے پھر رہے تھے۔

طالبان نے جلال آباد کے گورنر آفس کا کنٹرول سنبھالتے ہوئے پولیس ہیڈ کوارٹرز پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

جلال آباد پر قبضے کے بعد طالبان نے پاکستان کے شہر پشاور کی طرف جانے والی اہم شاہراہ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے جو پاکستان سے افغانستان میں داخل ہونے والی اہم گزرگاہ بھی ہے۔ جلال آباد سے قبل طالبان نے ہفتے کو شمالی شہر مزارِ شریف کا کنٹرول حاصل کیا تھا۔

اقتدار کی پرامن منتقلی

طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ ’پرامن سرنڈر‘ کے لیے افغان حکومت سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ طالبان کے ایک ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ وہ ’’کابل شہر کی پرامن منتقلی کے منتظر ہیں۔‘‘

افغان وزیر داخلہ عبدالستار مرزاکوال نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ ’اقتدار پرامن طریقے‘ سے عبوری حکومت کے حوالے کیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ افغان عوام کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیوں کہ کابل پر حملہ نہیں ہو گا۔ انہوں نے بتایا کہ کابل پر حملہ نہ کرنے کے حوالے سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے تازہ صورتحال کے بارے میں امریکا کے خصوصی مندوب برائے افغانستان زلمے خلیل زاد سے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں ہنگامی بات چیت شروع کر دی ہے۔