.

طالبان کے کنٹرول کا خوف ، افغان شہری کابل میں بینکوں سے رقوم نکلوانے لگے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان وزارت داخلہ نے آج اتوار کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ طالبان تحریک نے تمام سمتوں سے دارالحکومت کابل میں داخل ہونا شروع کر دیا ہے۔ اس صورت حال کے سبب لوگ خوف کے مارے بینکوں سے اپنے مالی رقوم نکلوانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

کابل کے وسط میں بنائی گئی وڈیوز میں درجنوں افغانیوں کو بینکوں کے سامنے اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے دیکھا جا رہا ہے۔ بعض دیگر وڈیو کلپوں میں کابل کے بعض علاقوں میں بینکوں کی جانب سے صارفین کے لیے بینک کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کی وجہ صارفین کے اپنی رقوم نکالنے کے لیے مطلوب سیالیت میں کمی ہے۔

ادھر افغان تحریک طالبان نے بینکوں اور ریاستی اداروں کو بھیجے گئے خطوط میں اطمینان دلایا ہے کہ وہ معمول کے مطابق کام کرتے رہیں۔ ساتھ ہی افغان شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ خوف کے سبب اپنے گھروں سے کوچ نہ کریں۔

ایک افغان ذمے دار نے اتوار کے روز تصدیق کی ہے کہ طالبان نے ملک کے تمام سرحدی راستوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ کابل کا ہوائی اڈہ ملک سے باہر جانے کا واحد راستہ ہے جو حکومتی فورسز کے کنٹرول میں رہ گیا ہے۔

طالبان اپنے ایک بیان میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ طاقت کے زور پر کابل میں داخل نہیں ہوں گے۔

دوسری جانب افغان صدر اشرف غنی نے ہفتے کے روز حکومتی فورسز کی تنظیمِ نو کا اعلان کیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن کابل کی جانب رینگتے ہوئے طالبان کو خبردار کر چکے ہیں کہ اگر امریکی مفادات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا تو واشنگٹن کی جانب سے "جلد اور بھرپور عسکری جواب" دیا جائے گا۔