.

افغانستان کی صورت حال پرسلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

طالبان کی جانب سے افغانستان کے دارالحکومت کابل پر قبضے کے بعد عالمی سطح پرافغانستان کی موجودہ صورت حال پرغور کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں۔

روس ، ایسٹونیا اور ناروے نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کی درخواست کی ہے تاکہ افغانستان کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔ روسی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے کہا اتوار کو ان کا ملک دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دوسری طرف تحریک طالبان کے جنگجو دارالحکومت کابل میں داخل ہوچکے جبکہ صدر اشرف غنی نائب صدر سمیت ملک چھوڑ گئے ہیں۔

کابل کا عمومی منظر
کابل کا عمومی منظر

روسی عہدیدار زمیر زابا لوف کا کہنا تھا کہ ہم اس پر کام کر رہے ہیں۔ جلد ہی سلامتی کونسل کی ایک میٹنگ منعقد کی جائے گی۔

برطانوی میڈیا نے اتوار کو خبر دی ہے کہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے موسم گرما کی تعطیلات کی وجہ سے پارلیمانی سرگرمیاں معطل ہونے کے باوجود پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اجلاس رواں ہفتے کے دوران منعقد ہوسکتا ہے۔

کابینہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ہاؤس آف کامنز کے اسپیکر لنڈسے ہوائل کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاکہ اس دن کا تعین کیا جاسکے جب اراکین پارلیمنٹ کو اجلاس میں مدعو کیا جائے گا۔

درایں اثنا امریکی صدر جو بائیڈن نے کابل کے ہوائی اڈے پر امریکی افواج کی تعداد پانچ ہزار تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ امریکی سفارت کاروں اور امریکیوں کے ساتھ کام کرنے والے افغان شہریوں کو وہاں سے نکالا جاسکے۔

’سی این این‘ نے انکشاف کیا کہ کابل میں امریکی سفارت خانے کے تمام ملازمین کو 72 گھنٹوں کے اندرکابل سے نکال دیا جائے گا۔

لندن نے برطانوی شہریوں کو ملک چھوڑنے میں مدد کے لیے 600 فوجیوں کی دوبارہ تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔ کئی مغربی ممالک اپنی سفارتی سرگرمیاں محدود اور بعض سفارت خانے بند کررہے ہیں۔ فرانس کے سفیر بھی کابل سے نکل گئے ہیں۔

جرمنی نے اپنے سفارت خانے کے ملازمین کو نکالنے کے لیے فوجی طیارے افغانستان بھیجے اور آج سے سفارت خانے کو بند کرنےکا اعلان کیا ہے۔