.
افغانستان وطالبان

طالبان کا خوف، لوگ طیاروں کے ذریعے اجتماعی طور پر فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اتوار کو کابل پر طالبان تحریک کے مکمل کنٹرول سے قبل دارالحکومت میں افرا تفری کے مناظر نظر آئے۔ سوشل میڈیا پر گردش میں آنے والے وڈیو کلپوں ہر عمر اور ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو مایوسی کے عالم میں گاڑیوں میں یا پیدل "حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے" کی جانب جاتے ہوئے دیکھا گیا تا کہ وہاں سے کسی بھی جگہ فرار ہوا جا سکے۔ اس موقع پر سڑکیں تنگ پڑ گئیں۔ واضح رہے کہ کابل کی آبادہ 60 لاکھ سے زیادہ ہے۔

فرار کے خواہش مند افراد کسی صورت ہوائی اڈے کے رن وے پر پہنچ گئے تا کہ کسی بھی منزل کی جانب اڑان بھرنے کے لیے تیار طیارے میں سوار ہو جائیں۔ ان لوگوں میں سے اکثر کے پاس کوئی سفری بیگ بھی نہیں تھا۔

افغانستان میں امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والے کُل 4000 افراد میں سے 500 ملازمین سب سے پہلے کابل کے ہوائی اڈے کے ذریعے کوچ کر گئے۔ سفارت خانے کو ہوائی اڈے منتقل کر دیا گیا تھا۔ یہ بات امریکی چینل ABC کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی۔