.

’’افغانستان میں 20 سالہ جنگ کا خاتمہ، نئی حکومت کے خد وخال جلد سامنے آئیں گے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغان طالبان کے پولٹ بیورو کے ترجمان ڈاکٹر محمد نعیم نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم تنہائی میں نہیں رہنا چاہتی اور افغانستان کی نئی حکومت کی شکل جلد واضح ہو گی۔

معاصر عرب نیوز چینل سے گفتگو میں محمد نعیم نے پر امن بین الاقوامی تعلقات رکھنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جنگ ختم ہو چکی ہے‘۔ طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم جو حاصل کرنا چاہ رہے تھے اس تک پہنچ گئے جو کہ ہمارے ملک اور عوام کی آزادی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم اپنے سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

افغان حکومتی عہدیداروں کے فرار کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول طالبان نے سنبھال لیا اور اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہو چکی ہے۔

خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کابل میں تیز ترین پیش رفت، خوف اور افراتفری کا ماحول رہا جس کے بعد بالآخر رات گئے بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے خالی صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اس دوران مغربی ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مصروف رہے جبکہ سیکڑوں افغان شہری بھی ملک چھوڑنے کے لیے کابل ایئر پورٹ پہنچے۔

خیال رہے کہ طالبان جنگجو بلا مزاحمت جلال آباد فتح کرنے کے بعد افغانستان کے دارالحکومت میں داخل ہو گئے تھے جہاں ان کے اقتدار کی پر امن منتقلی کے لیے افغان رہنما سے بات چیت بھی ہوئی۔

امریکی ڈپارٹمنٹ آف اسٹیٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کابل کے سفارتخانے سے عملے کا انخلا مکمل کرلیا گیا ہے۔ نیڈ پرائس نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم تصدیق کرسکتے ہیں کہ تمام سفارتی اہلکاروں کا محفوظ انخلا مکمل ہوچکا ہے، سفارت خانے کے تمام اہلکار حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں ہیں جسے امریکی فوج نے محفوظ بنایا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں امریکا نے 2001 میں پہلی مرتبہ طالبان حکومت کے خلاف حملے شروع کیے تھے، جو نائن الیون حملوں کا نتیجہ تھا۔

تاہم 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے بعد گذشتہ برس فروری کو امن معاہدہ کیا تھا جس کی رو سے غیر ملکی افواج کے انخلا اور افغان حکومت کی طالبان کے ساتھ بات چیت پر اتفاق ہوا تھا۔

افغانستان میں جاری لڑائی میں رواں برس مئی سے ڈرامائی تبدیلی آئی جب امریکا کی سربراہی میں افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کے انخلا کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تھا اور رواں مہینے کے اختتام سے قبل انخلا مکمل ہوجائے گا۔

جس کے پیشِ نظر طالبان کی جانب سے پہلے اہم سرحدی علاقوں پر قبضہ کیا گیا اور پھر برق رفتاری سے صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرتے چلے گئے۔

چند روز قبل ایک امریکی رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی تھی کہ طالبان 90 روز میں کابل پر قبضہ کر سکتے ہیں تاہم طالبان کے برق رفتار پیش قدمی کے ساتھ کابل پر قبضے نے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے۔