.

قید کی سزا ملنے پرسینیر عراقی عہدیدار کمرہ عدالت سے فرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

’العربیہ‘ کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق ایک سینیر عراقی افسر دارالحکومت بغداد کے مغربی حصے میں کرخ فوجداری عدالت میں اپنے مقدمے کی سماعت سے باہر نکلنے کے دوران فرار ہوگیا۔

عراقی فضائیہ کے سابق کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل انور حمد امین اس وقت فرار ہوا جب عدالت نےاسے بدعنوانی کے الزام میں دو سال قید کی سزا سنائی۔

ایک سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ فیصلہ جاری ہونے کے بعد پولیس کا ایک دستہ مجرم کوہال سے باہر لے گیا لیکن اس نے دلیل دی کہ اس کی گاڑی میں وہ اس کی ضرورت کا سامان ہےجسے وہ ساتھ لے جانا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایک پولیس لیفٹیننٹ کو اس کے ہمراہ گاڑی کی طرف بھیجا۔

مجرم گاڑی پر چڑھ گیا جسے اس کا بھتیجا کرنل ارشد صالح محمد امین چلا رہا تھا۔کرنل صالح امین وزارت دفاع میں کام کرتا ہے۔ گاڑی میں بیٹھنے کے بعد مجرم نے لیفٹیننٹ کو اسلحہ دکھایا اور ساتھ ہی تیزی کے ساتھ العدل کالونی کی طرف بھاگ گیا۔

تاہم مجرم ابھی زیادہ دور نہیں پہنچا تھا کہ ایک اشارے پرپہنچنے کے بعد سیکیورٹی اہلکار اس تک پہنچ گئے۔تاہم وہ پکڑائی نہیں دیا اور پیدل وہاں سے نامعلوم سمت میں فرار ہوگیا۔

دوسری طرف اس کے بھتیجے کو گرفتار کیا گیا۔ اس کی کار اور ایک ایم 4 رائفل اور 9 ایم ایم والٹر پستول بھی ضبط کرلیا گیا۔ پولیس نے علاقے کو سیل کرکے مفرور مجرم کی تلاش شروع کردی ہے۔

ایک سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ مجرم نے واقعے کے چند گھنٹوں بعد خود کو حوالے کے حوالے کردیا۔

سابق وزیر اعظم حیدر العبادی کے دور میں عوامی پیسہ ضائع کرنے کے الزام میں انور امین کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئےتھے۔

امین کو ستمبر میں عہدے سے ریٹائر کرنے کے بعد اس کےخلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔