.
افغانستان وطالبان

کابل میں ایرانی سفارت خانہ بدستورکام کررہا ہے:ترجمان وزارت خارجہ

افغان مسئلہ کو مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے:سعید خطیب زادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کا افغان دارالحکومت کابل میں سفارت خانہ اور مغربی شہر ہرات میں واقع قونصل خانہ دونوں فعال ہیں اورمعمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’’کابل میں ایرانی سفارت خانے اور ہرات میں قونصل خانے میں معمول کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ہم افغانستان میں اپنے سفارت کاروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور صورت حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘‘

سعید خطیب زادہ نے افغانستان میں حالیہ پُرتشدد واقعات کے نتیجے میں بے گھرہونے والے افغان شہریوں پرتوجہ مرکوز کرنے کی ضرورت زوردیا ہے اورعالمی اداروں سے کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔انھوں نے ایک بار پھرایران کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ افغان مسئلہ کو مذاکرات اورافہام و تفہیم سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران افغانستان میں جاری بحران کے حل کی غرض سے بین الافغان مذاکرات میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے اور علاقائی اتفاق رائے کے حصول کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہے۔

ایرانی ترجمان نے اتوار کو بتایا تھا کہ ایران نے افغانستان کے تین شہروں مزارشریف ، جلال آباد اور قندھار میں واقع اپنے قونصل خانوں میں معمول کی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔

ایران نے افغانستان میں طالبان کے دوبارہ ظہور کو امریکا کی فوجی ناکامی کا مظہرقرار دیا ہے۔ایرانی صدرابراہیم رئیسی نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’افغانستان میں امریکا کی ’’فوجی ناکامی‘‘ اور اس کی فوجوں کا انخلا جنگ زدہ ملک میں قیام امن کا ایک موقع فراہم کرتا ہے۔‘‘

دریں اثناء طالبان کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو کابل میں نظم وضبط برقرار رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی سفارتی عمارت میں داخل ہوں اور نہ سفارت خانوں کی گاڑیوں سے پوچھ تاچھ کریں۔