.

آئی سی سی کو افغانستان میں انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی عدالت جرائم (آئی سی سی) نے منگل کو افغانستان میں جرائم کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کیا جو کہ ادارے کے بقول ’بین الاقوامی انسانی قوانین‘ کی خلاف ورزیوں کے مترادف ہو سکتے ہیں۔

آئی سی سی کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ’میں افغانستان میں موجودہ پیش رفت کو قریب سے دیکھ رہا ہوں اور ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کی حالیہ اطلاعات سے سب سے زیادہ پریشان ہوں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ان اطلاعات میں قیدیوں اور ہتھیار ڈالنے والے افراد کا انتقامی قتل، خواتین اور لڑکیوں پر ظلم، بچوں کے خلاف جرائم اور بڑے پیمانے پر شہری آبادی کو متاثر کرنے والے دیگر جرائم کی شکل میں ماورائے عدالت قتل کے الزامات شامل ہیں۔‘

کریم خان نے ایک بیان میں کہا کہ مبینہ جرائم ’بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزیوں کے مترادف ہو سکتا ہے‘ جنہیں ان کا دفتر تحقیقات کے لیے منتخب کر سکتا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغانستان پر بجلی کی رفتار سے طالبان کے قبضے کے بعد ہزاروں افراد طالبان کے ظلم و ستم کے خوف سے فرار ہو رہے ہیں۔ یہ لوگ 1996 سے 2001 تک اس ملک پر حکومت کرتے تھے۔

مارچ 2020 میں ہیگ میں قائم آئی سی سی نے ایک اپیل کورٹ کے فیصلے میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کے مبینہ جنگی جرائم کی تحقیقات کا اختیار دیا تھا۔

آئی سی سی کے اس بیان سے کچھ ہی دیر قبل طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنی پہلی نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ طالبان کسی پر ظلم نہیں کریں اور نہ ہی کسی سے بدلہ لیں گے بلکہ طالبان نے اپنے امیر کے حکم اپنے مخالفین اور ان افغانوں کو بھی معاف کر دیا ہے جو امریکیوں کے ساتھ مترجم یا دیگر شعبوں میں کام کر رہے تھے۔