.
افغانستان وطالبان

ترکی نے کابل ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے کا منصوبہ ترک نہیں کیا:وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی نے ان خبروں کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ کابل کے ہوائی اڈے کا انتظامی کنٹرول سنبھالنے کے منصوبہ سے دستبردارہوگیا ہے۔اس نے کہا ہے کہ وہ طالبان اور مختلف افغان سیاست دانوں کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج کا انتظارکررہا ہے۔

ترک وزیرخارجہ مولود شاوش اوغلو نےبدھ کو ایک بیان میں اس امید کا اظہارکیا ہے کہ افغان طالبان اورسیاست دان پُرامن ذرائع سے کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ ان کی بات چیت کے نتیجہ خیز ہونے کے بعد ہی ہم ان امور کے بارے میں کوئی بات کرسکتے ہیں۔

نیٹو کے رکن ترکی کے قریباً 600 فوجی کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پرسیکورٹی کی ذمہ داری ادا کرتے رہے ہیں،اس نے امریکی اورنیٹو فوجیوں کے انخلا کے بعد ہوائی اڈے کو چالورکھنے اور اس کے تحفظ کے لیے اپنی خدمات جاری رکھنے کی پیش کش کی ہے جبکہ طالبان نیٹو کے تمام رکن ممالک کے فوجیوں کا افغانستان سے انخلا چاہتے ہیں۔

دریں اثنا مولود شاوش اوغلو نے ترکی کے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہونے کے حکومتی فیصلے کا دفاع کیا ہے۔انھوں نے اس ضمن میں اپوزیشن جماعتوں کی تنقید کے بعد کہاکہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ان کے نظریے کی حمایت کرتے ہیں مگرہرکوئی عملیت پسندی اختیار کررہا ہے۔

وزیرخارجہ کو یہ کہتے ہوئے بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ حکومت طالبان کے ’’مثبت پیغامات‘‘ کا خیرمقدم کرتی ہے۔مولود شاوش اوغلو نے یہ کہا تھا کہ ہم ان کے پیغامات کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ہم محتاط ہیں یعنی ہمیں (کسی فیصلے سے پہلے) ان (پیغامات) کا عملی طور پراطلاق دیکھنا چاہیے۔

ترکی جنگ زدہ افغانستان سے غیرملکی فوجیوں کے مکمل انخلا کے بعد اور طالبان کے ملک کے بیشتر علاقوں پر کنٹرول کے باوجود کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کا انتظام سنبھالنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اس ضمن میں امریکا سے مالی اور لاجسٹیکل امداد مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔