.
افغانستان وطالبان

دنیا کے سامنے بتدریج اپنی قیادت پیش کریں گے: افغان طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں حکومت سنبھالنے والی تحریک طالبان نے "ایک مختلف طرز حکومت" پیش کرنے کا عزم کیا ہے۔ تحریک نے سابق حکومت کے ذمے داران پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کریں تا کہ انہیں تحفظ کا احساس ہو۔

مذکورہ طالبان ذمے دار نے نام بتائے بغیر رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ تحریک نے اپنے ارکان کو ہدایت کی ہے کہ وہ جشن نہ منائیں کیوں کہ "یہ فتح تمام افغان عوام کی ملکیت ہے"۔ مزید یہ کہ شہریوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طالبان ارکان کی جانب سے کسی بھی غیر قانونی حرکت یا تصرف کی فوری اطلاع دیں تا کہ ان افراد کا محاسبہ کیا جا سکے۔

اس سے قبل طالبان تحریک یہ باور کرا چکی ہے کہ وہ خواتین کے خلاف سخت گیری نہیں اپنائے گی اور انہیں کام کرنے سے ہر گز نہیں روکا جائے گا۔ تاہم افغان دارالحکومت کابل کی سڑکوں پر گھومنے پھرنے والی خواتین کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ علاوہ ازیں مردوں نے بھی مغربی لباس اتار دیا ہے۔

ادھر برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے مطالبہ کیا ہے کہ یک طرفہ مواقف سے اجتناب کرتے ہوئے افغانستان کے حوالے سے مشترکہ بین الاقوامی موقف پر کام کیا جائے۔ جانسن کے مطابق انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ افغانستان کے معاملے پر بات چیت کی ہے۔ دونوں شخصیات افغانستان کی صورت حال زیر بحث لانے کے لیے آئندہ ہفتے 'جی سیون' گروپ کا ایک ورچوئل اجلاس منعقد کرنے پر متفق ہو گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق بائیڈن اور جانسن نے افغانستان کے معاملے میں میں اتحادیوں اور جمہوری شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔