.
افغانستان وطالبان

طالبان اور امریکی قیادت کی قطر میں ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر فرینک میک کینزی نے اعلان کیا کہ انہوں نے قطر میں تحریک طالبان تحریک کے سینیر رہ نماؤں سے ملاقات کی ہے۔

میک کینزی نے طالبان کو یقین دلایا کہ افغانستان میں شہریوں اور اتحادیوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ امریکی عہدیدارکا کہنا تھا کہ انہوں نے کابل ائیرپورٹ کا دورہ کیا ہے اور وہاں پرحالات اب قابومیں ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیوان نے کہا کہ ان کے ملک کی افغانستان میں اب کوئی خاص توقعات نہیں ہیں۔ انہوں نے العربیہ کے ایک سوال کے جواب میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن طالبان کی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا انتظار کر رہا ہے خاص طور پر لوگوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے سے متعلق ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا منتظر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ اچھی طرح واضح ہے کہ طالبان اور داعش ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر حملے کرتے ہیں۔ اس لیے میں وہاں تعلقات کی توقع نہیں کرتا۔ ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ آگےکیا ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باہر نکالا جا سکے۔ لہذا میں ٹائم لائن کے سوال پر قیاس آرائی نہیں کروں گا۔ ہم طالبان سے آگے بڑھنے کی کیا توقع کریں گے۔

یہ وہ چیز ہے جس کی ہمیں وقت کے ساتھ نگرانی کرنی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا طالبان بنیادی انسانی حقوق اور لوگوں کے انسانی وقار ، لوگوں کے لیے ائیرپورٹ تک محفوظ راستہ فراہم کرنے اور منصفانہ سلوک کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر تیار ہیں یا نہیں۔

جیک سلیوان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو انہیں(طالبان) کو کرکے دکھانی ہے۔ میں بغیر کسی توقع کےیہاں آیا ہوں لیکن صرف یہ محسوس کرتا ہوں کہ انہیں بین الاقوامی برادری کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ بحران کیسے حل ہوگا۔

سفارتی عملہ افغانستان میں رکھنے کا ارادہ

امریکہ نے اپنی افواج کے انخلا کی آخری تاریخ تیس اگست کے بعد کابل ہوائی اڈے پر سفارتی موجودگی برقرار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر حالات پرامن ہوجاتے ہیں اور حالات کا تقاضا یہ ہو کہ ہمیں اپنی ذمہ داریاں زیادہ دیر ادا کرنا ہیں تو ہم سفارتی عملے کو وہاں روک سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو افغانستان میں انسانی بحران کو روکنے کے لیے متحد ہونے اور افغان عوام کی مدد جاری رکھنا ہوگی۔

دونوں رہ نماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں گزشتہ بیس سال میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو ضائع نہیں کیا جائے گا۔

دونوں آنے والے دنوں میں گروپ آف سیون کے رہ نماؤں کی ورچوئل میٹنگ میں افغانستان کی صورتحال پر وسیع پیمانے پر بات چیت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کل منگل کو طالبان نے کابل میں اپنی پہلی باضابطہ پریس کانفرنس میں اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کے ساتھ خواتین کو ان کے حقوق دلانے کی بھی بات کی ہے۔