.
افغانستان وطالبان

’’کابل سے خروج کے لیے امریکی ’’فضائی پل‘‘ سبک رفتاری سے کام کر رہا ہے‘‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قومی سلامتی کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کے مشیر بے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ کابل پر حکمران طالبان نے عام شہریوں کو امریکہ کے بنائے گیے ’’فضائی پل‘‘ کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان سے باہر نکلنے کی خاطر محفوظ راستہ فراہم کرنے پر موافقت ظاہر کر دی ہے۔

اس سے پہلے بھی افغانستان میں امریکیوں اور واشنگٹن کے اتحادیوں سمیت دوسرے افراد کو کابل سے باہر نکالنے کے ایک شیڈول پر پہلے ہی عمل ہو رہا ہے۔

جیک سولیوان نے ان اطلاعات کی تصدیق کی جن میں بتایا گیا تھا کہ کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے تک پہنچنے کے لیے عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ متعدد شہریوں کو ہوائی اڈے جانے سے روکا جا رہا ہے اور وہاں پہنچنے والے کئی شہریوں نے زد وکوب کیے جانے کی بھی شکایت کی ہیں۔

مسٹر جیک کے مطابق ہوائی اڈے پر آنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور وہاں پر ان کا سامنا طالبان سے ہوتا ہے جنہوں نے اتوار کے روز دیکھتے ہی دیکھتے دارلحکومت کا کنڑول سنبھال لیا تھا جس کے بعد سے امریکا کے افغانستان سے انخلا کے آپریشن کے موقع پر پرتشدد کارروائی دیکھنے میں آئی۔

امریکی محکمہ دفاع کے حکام کے مطابق انخلا کے بنایا گیا فضائی پل پلان کے مطابق کام کر رہا ہے۔ پیر کے روز اس میں موسمی صورت حال کی وجہ سے وقتی تعطل آیا تھا، تاہم طالبان کی کوارڈی نیشن سے اسے جلد دوبارہ شروع کر لیا گیا تھا۔

ادھر وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ امریکہ کی فوجی پروازوں کے ذریعے افغانستان سے 1100 کے قریب ایسے افراد اور ان کے خاندانوں کو نکال لیا ہے جو امریکہ کی مستقل سکونت رکھتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق شہریوں کے انخلا کے لیے 12 سی سیونٹین اور ایک سی ون تھرٹی طیارہ استعمال کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کا مزید بتانا ہے کہ شہریوں کے انخلا کی رفتار اور تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اب تک کل 3200 افراد کو افغانستان سے باہر لایا گیا ہے اور ان میں 2000 کے قریب ایسے افغان شہری ہیں جو اسپیل امیگرنٹ ویزا پر ہیں جنہیں امریکہ میں آباد کیا گیا ہے۔