.
افغانستان وطالبان

افغانستان:طالبان کا امریکی فوج کے بائیومیٹرک آلات پرقبضہ

مغرب کے اتحادی افغانوں کی شناخت کے لیے آلات کو استعمال میں لایاجاسکتا ہے:امریکی فوجی عہدے داروں کا خدشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان نے امریکی فوج کے زیراستعمال رہنے والے بائیومیٹرک آلات اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔امریکی فوج کے سابق اور موجودہ عہدے داروں کا کہنا ہے کہ ان آلات کو افغانستان میں مغرب کے اتحادیوں کی شناخت کے لیے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

ایک تحقیقی ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ نے بدھ کو یہ خبر دی تھی کہ طالبان نے گذشتہ ہفتے کے دوران میں کابل پراپنی چڑھائی کے بعد ہاتھ سے استعمال ہونے والے شناختی سراغ رسانی کے آلات ضبط کرلیے ہیں۔یہ آلات ایچ آئی آئی ڈی ای کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔

جائنٹ اسپیشل آپریشنز کمان کے ایک عہدہ دار اور تین سابق فوجیوں نے بتایا ہے کہ ایچ آئی آئی ڈی ای کو لاسلکی، پورٹیبل بائیو میٹرک کولیکشن اور شناختی پلیٹ فارم کے طورپر تیار کیا گیا تھا۔اس سے آنکھ کی پتلی،انگلیوں کے نشان، تصاویر اور بائیوگرافیکل ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا ہے،اس سے ایک شخصی ’پورٹ فولیو‘تخلیق ہوتا ہےاور اس کو’’ڈیجیٹل ڈوزیئر‘‘ کے طور پر درآمد کیا جاسکتا ہے۔

طالبان نے رواں ہفتے کے اوائل میں امریکی افواج کے ملک سے انخلا کے بعد دارالحکومت کابل سمیت افغانستان کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا۔طالبان نے اپنے تشخص کی بحالی کی کوشش میں تبدیلی کے بڑے وعدے اور دعوے کیے ہیں۔

انھوں نے سابق حکومت اور غیرملکی افواج کے ساتھ کام کرنے والے افغان مترجموں یا ٹھیکے داروں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ سرکاری ملازمین اور فوجیوں کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی اورخواتین کے حقوق کا احترام کیا جائے گا۔

تاہم مقامی صحافیوں اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ برسرزمین اصل صورت حال بالکل مختلف ہے اور طالبان کی جانب سے گھروں کی تلاشی اور گرفتاریوں کی اطلاعات منظرعام پرآرہی ہیں۔

واضح رہے کہ افغانستان میں گذشتہ برسوں کے دوران میں ڈیٹا بیس کو ڈیجیٹل بنانے اور ووٹنگ کے لیے ڈیجیٹل شناختی کارڈ اور بائیومیٹرکس کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔اب انسانی حقوق کی تنظیموں اور کارکنوں نے خبردارکیا ہے کہ شخصی شناخت کی اس ٹیکنالوجی کو کمزورگروپوں کو نشانہ بنانے اور ان پرحملوں کے لیےاستعمال میں لایاجاسکتا ہے۔اس ٹیکنالوجی میں فنگر پرنٹس اور آنکھ کی پتلی سے اسکین کیے گئے ڈیٹا بیس تک رسائی اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی شامل ہے۔

امریکا میں قائم ایڈووکیسی گروپ ہیومن رائٹس فرسٹ نے کسی ڈیجیٹل ہسٹری کو حذف کرنے کے بارے میں رہنمائی کے لیے فارسی زبان میں ایک کتابچہ فوری طور پر شائع کیا ہے۔یہ اس نے گذشتہ سال ہانگ کانگ میں کارکنوں کے لیے تیارکیا تھا۔اس نے بائیومیٹرکس سے بچنے کے بارے میں ایک رہ نما کتابچہ بھی تیار کیا تھا۔

اس گائیڈ کے مطابق چہرے کی شناخت کو بائی پاس کرنے کے ٹوٹکوں میں نیچے دیکھنا، چہرے کی خصوصیات کو غیرواضح کرنے کے لیے کچھ پہننا یا میک اپ کی بہت سی پرتیں لگانا شامل ہیں، اگرچہ فنگر پرنٹ اورآنکھ کی پتلی کے اسکین کو بائی پاس کرنا مشکل ہوتا ہے۔