.

کابل: طیارے سے گرنے والے افغانیوں کی لاشوں اور جسمانی اعضا کے لرزہ خیز مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ویڈیو کلپ میں ان افغان شہریوں کی لاشوں اور جسمانی اعضا کے لرزہ خیز مناظر دکھائے گئے ہیں جو گذشتہ اتوار کو کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اڑنے والی ایک امریکی طیارے سے گر کرہلاک ہوگئے تھے۔ یہ لوگ کابل سے فرار کی کوشش کے دوران طیارے کےساتھ لٹک گئے تھے جو جہاز کے اڑنے کے بعد بلندی سے نیچے آگرے تھے۔

ہوائی اڈے کے رن وے پر ہجوم نے لوگوں کو گرتے دیکھا۔ وہ انہیں بچانے کے لیے جگہ پر پہنچے لیکن انہیں ایک خوفناک منظر دیکھنے کو ملا۔ وہاں لاشیں تھیں اور انسانی اعضا الگ الگ ہوگئے تھے۔

حادثے سے پہلے سیلفی

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس نے ایک افغانی کی تصویر شائع کی جو امریکی فوجی طیارے کے ونگ سے اپنے اور دوسرے جوانوں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے اس سے لپٹنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ لوگ بھی طالبان کے خوف سے کابل ائیرپورٹ سے فرار ہو رہے تھے۔

افغان نوجوان نے طیارے کےاڑان بھرنے سے پہلے رن وے پر جمع ہونے والے ہجوم کی تصاویر بھی لیں۔ اسی دوران ایک اور لرزہ خیز واقعہ اس وقت پیش آیا جب تین نوجوان جہاز کے پہیوں میں پھنس گئے۔

فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ تقریبا 10 افراد ونگ کے نیچے بیٹھے ہیں جبکہ دو دیگر افراد چلتے ہوئے طیارے کے سامنے رن وے عبور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس ہولناک واقعے میں تین افغان نوجوان پیر کو ہوائی اڈے پر طیارے کے پہیوں سے گر گئے جب انہوں نے بڑے ہجوم کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کی۔

اسواکا نیوز ایجنسی کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے قریب مقامی باشندوں نے بتایا کہ نوجوان ایک جہاز کے پہیوں کے ساتھ لٹک گئے اور کچھ ہی دیر بعد وہ لوگوں کےگھروں کے اوپر آگرے تھے۔

رہائشیوں میں سے ایک نے تصدیق کی کہ ان نوجوانوں کے گرنے سے ایک زوردار اور خوفناک ہنگامہ ہوا۔

ہوائی اڈے پر افراتفری اور فائرنگ

طالبان نے کابل ایئرپورٹ کے قریب شہریوں کے ہجوم کو گولی مار دی۔ طالبان کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈے پر ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولی چلائی گئی ور ہم انہیں مارنا نہیں چاہتے۔

شمالی اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن "نیٹو" کے ایک سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ بدھ کو افغان دارالحکومت کے ہوائی اڈے کے ایک دروازے پر بھگدڑ مچنے سے 17 افراد زخمی ہوئے ہیں۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مغربی ممالک اپنے باشندوں کو کابل ہوائی اڈے سے نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔