.

کینیڈا:ہواوے کی سی ایف او کی امریکا حوالگی سے متعلق کیس کافیصلہ محفوظ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیڈا کی ایک خاتون جج نے چین کی ٹیلی مواصلات کی بڑی کمپنی ہواوے ٹیکنالوجیزکی ایک سینیرایگزیکٹو کو امریکا کے حوالے کرنے سے متعلق کیس پراپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

کینیڈا کے محکمہ انصاف کے وکیل نے اس مقدمہ پر دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس ایسے کافی شواہدموجود ہیں کہ ہواوے کے شعبہ مالیات کی سربراہ بددیانتی کی مرتکب ہوئی تھیں اوران کے خلاف امریکا میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

ایسوسی ایٹ چیف جسٹس ہیتھ ہومز نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وہ21 اکتوبر کو ممکنہ طور پر اعلان کریں گی کہ وہ اس مقدمے کا فیصلہ کب سنائیں گی کہ ہواوے ٹیکنالوجیز کی چیف فنانشل آفیسر (سی ایف او) اور اس کے بانی کی بیٹی مینگ وان ژو کو امریکا کے حوالے کیا جائے گا یا نہیں۔

یادرہے کہ کینیڈین حکام نے مینگ کو امریکا کی درخواست پر2018ء کے آخر میں وینکوور کے ہوائی اڈے سے گرفتارکیا تھا۔ ان کی گرفتاری پر چین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور اس کو ایک سیاسی اقدام قرار دیا تھا۔

امریکا مینگ کے خلاف دھوکا دہی کے الزام میں مقدمہ چلانا چاہتا ہے۔ان پرالزام عاید کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ کمپنی کے کاروباری معاملات کے بارے میں ایچ ایس بی سی بینک کو گم راہ کیا تھا اور اس طرح وہ دھوکا دہی کی مرتکب ہوئی تھیں۔

اس نے ہواوے پرالزام لگایا تھا کہ وہ امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کو سازوسامان کی فروخت کے لیے ہانگ کانگ کی اسکائی کام نامی شیل کمپنی استعمال کر رہی تھی۔

وکلائے صفائی نے عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہواوے کی سی ایف او کی امریکا حوالگی کے لیے کافی ثبوت نہیں ہیں لیکن کینیڈا کے محکمہ انصاف کے وکیل رابرٹ فریٹرنے اپنی آخری درخواست میں اس دعوے کو مسترد کردیا ہے۔

انھوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے پتاچلتا ہے کہ مینگ نے غلط بیانی سے کام لیا جس سے بنک کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ اس نے امریکا کی ایران پرعاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کیا ہے۔نیزانھوں نے ایچ ایس بی سی بنک کو کمپنی کے ایران کے ساتھ کاروباری معاملات کے بارے میں گم راہ کیا تھا۔

فریٹر نے کہا کہ یہاں ایک مضبوط کیس ہے اور وہ یہ کہ محترمہ مینگ بے ایمان تھیں۔انھوں نے دھوکا دہی سے کام لیا ہے۔انھوں نے ہواوے کے اسکائی کام کے ساتھ حقیقی تعلقات کا انکشاف نہ کرکے ایچ ایس بی سی کو ایران پر عاید امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کے خطرے سے دوچارکردیا ہے۔

فریٹر نے عدالت میں کہا کہ’’ایچ ایس بی سی کو ضروری مناسب اقدام کے موقع سے محروم رکھا گیا۔مینگ ایچ ایس بی سی کے ایک ایگزیکٹو کے ساتھ اپنی ملاقات کے کچھ حصوں میں ایماندار تھیں، لیکن انھوں نےپوری سچائی نہیں بتائی تھی۔‘‘

چینی حکومت نے اس گرفتاری کو امریکا کی جانب سے چین کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کا شاخسانہ قراردیا تھا اور اس کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ نیٹ ورک آلات اور سمارٹ فونز بنانے والی کمپنی ہواوے چین کا پہلا عالمی ٹیکنالوجی برانڈ ہے۔ٹیکنالوجی اور انفارمیشن سسٹم کی سکیورٹی پرامریکا اور چین کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی میں یہ سب سے اہم معاملہ ہے۔

مینگ نے، جو اپنی کلائی پر الیکٹرانک مانیٹرنگ ڈیوائس پہن کرسماعت میں شریک ہوئی تھیں، ایک مترجم کے ذریعے عدالت کی کارروائی میں حصہ لیا۔وہ جج کے کسی بھی ممکنہ فیصلہ کے خلاف اعلیٰ عدالت میں اپیل دائرکرسکیں گی۔

واضح رہے کہ اس معاملہ پر کینیڈا اور چین کے درمیان تعلقات خراب ہوچکے ہیں۔یکم دسمبر2018ء کو وینکوور کے ہوائی اڈے سے ہواوے کی سی ایف او مینگ وان ژو کی گرفتاری کے بعد چین میں کینیڈا کی ایک کاروباری شخصیت مائیکل سپاوراور ایک سابق سفارت کار کوحراست میں لے لیا گیا تھا۔ناقدین نے اس کومینگ کی گرفتاری کا ردعمل قراردیاتھا۔رواں ماہ چین کی ایک عدالت نے سپاور کوجاسوسی کے الزام میں گیارہ سال قید کی سزا سنائی ہے۔

چین کے شمال مشرقی صوبہ لیاؤننگ کی اعلیٰ عوامی عدالت نے کینیڈین سفارت کار رابرٹ شیلن برگ کی اپیل مسترد کردی تھی۔انھیں منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات میں قصوروار قرار دے کر 15 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی لیکن جنوری 2019 میں مینگ کی گرفتاری کے بعد ان کی قید کو بڑھا کرسزائے موت میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

مینگ اس وقت وینکوور میں ضمانت پر آزاد ہیں اور ایک مینشن میں رہ رہی ہیں۔چین اس بات کی تردید کرتاہے کہ مینگ کے معاملے کا سپاوراور کوورِگ کی گرفتاری سے کوئی تعلق ہے۔

چین نے کینیڈا سے کینولاسیڈ آئل اوردیگر مصنوعات کی درآمد پر بھی پابندی عایدکردی ہے اوراس طرح اس نے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی حکومت پردباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔