.
افغانستان وطالبان

افغان خواتین کھلاڑیوں کا "طالبان" کے نرغےمیں آنے سے بچانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی رکن افغانی سمیرا اصغری نے امریکا میں سرکاری اداروں اور شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ سب سے نمایاں افغان خواتین کھلاڑیوں اور ان کے تکنیکی عملے کے ارکان کوملک چھوڑنے میں جلد ازجلد مدد کریں تاکہ انہیں طالبان کے انتقامی حملوں سے بچایا جاسکے۔

باسکٹ بال کی ایک سابقہ کھلاڑی جو کہ 2018 میں بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی سب سے کم عمر رکن بنی نے افغان خواتین کھلاڑیوں کی حفاظت کے حوالے سے اپنے خوف اور خدشات کا اظہار کیا۔اس نے کہا کہ طالبان کے حالیہ اس دعوے کہ وہ اسلامی قانون کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کریں گی خواتین کھلاڑیوں کی جانوں کو خطرے میں محسوس کررہی ہیں۔

سنہ 1996 اور 2001 کے درمیان "طالبان" کی حکومت کے دوران خواتین کو کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں تھی۔ انہیں گھر سے باہر جانے کے لیے برقعہ پہننے اور محرم رشتہ دار کو ساتھ رکھنے پرمجبور کیا جاتا تھا۔

27 سالہ اصغری نے ’یو ایس باسکٹ بال ایسوسی ایشن‘ ، ’یو ایس اولمپک کمیٹی‘ اور کابل میں امریکی سفیر کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغان کھلاڑیوں ، ان کے تکنیکی عملے اور ان کے ساتھیوں کو آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان لوگوں کو طالبان کی پہنچ سے دور رکھنا ہے۔ مہربانی فرما کر اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے انہیں نکالنے میں مدد کی جائے۔

اصغری نے ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں رہنے والی افغان خواتین فٹ بال ٹیم کی کپتان خالدہ پوپل کو بھی اس مہم میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ اس نے اپنے ملک کی کھلاڑیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس حذف کریں ، آلات، اسپورٹ یونی فارم اور کھیلوں کا سامان غائب کریں۔ اپنی حفاظت کےلیے اپنی شناخت چھپائیں۔

اس موسم گرما میں افغانستان نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں سمر اولمپکس میں حصہ لیا۔ چار کھیلوں میں پانچ افغان کھلاڑیوں کے وفد نے حصہ لیا ان میں ایک خاتون ’رنر‘ کامیا یوسفی شامل تھیں۔

بین الاقوامی پیرالمپک کمیٹی نے منگل کو اعلان کیا کہ افغان پیرالمپک ٹیم افغانستان کی موجودہ سیاسی صورت حال کے باعث کھیلوں میں شرکت نہیں کرے گی۔ یہ مقابلے آئندہ ہفتے ٹوکیو میں شروع ہونے والے ہیں۔