.

دمشق میں حزب اللہ کے فوجی ٹھکانوں پراسرائیلی بم باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکومت کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ شامی فضائی دفاع نے جمعرات کی شام دمشق کےقریب میں ایک "اسرائیلی حملہ" پسپا کر دیا۔

ایک فوجی ذرائع نے شام کی خبر رساں ایجنسی "سانا" کو بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے بیروت کے جنوب مشرق کی سمت سے میزائلوں سے فضائی حملہ کیا۔ بمباری میں دمشق شہر اور حمص میں متعدد مقامات اورحزب اللہ کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے تصدیق کی ہے کہ دمشق شہر اور اس کے گردونواح میں جمعرات کی شام پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

آبزر ویٹری کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیلی میزائلوں نے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ڈپووں اور دمشق کےعلاقے قارہ اور حمص کے دیہی علاقوں میں فوجی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اب تک ان حملوں میں کسی قسم کے جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق "حزب اللہ" اس علاقے میں سرگرم ہے جولبنان سے شام کو ایندھن کی اسمگلنگ کے لیےروٹ کےطور پر استعمال کرتی ہے۔ شامی فضائی دفاع نے قسیون ، جبل المانع اور 91 ویں بریگیڈ ہیڈ کواٹر پر حملوں کو روکنے کے لیے جوابی کارروائی کی۔

لبنان کی خبر رساں ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ اسرائیلی طیاروں نے ساحل اور پہاڑوں پر صیدا، بیروت اور کسروان کے اوپر نچلی پروازیں کیں۔ لبنانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ دو راکٹ لبنان شام کی سرحد پر واقع قلمون علاقے میں گرے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ تل ابیب "غیر ملکی میڈیا کی فراہم کردہ معلومات پر تبصرہ نہیں کرتا۔

اسرائیل شام میں کی جانے والی فوجی کارروائیوں کی شاذ و نادر ہی ذمہ داری قبول کرتا ہے لیکن اسرائیلی فوج نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے 2020 میں شام میں تقریبا 50 اہداف پر بمباری کی تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔