.
طالبان

طالبان ’مال غنیمت‘ میں حاصل ہونے والے امریکی جہازوں کا کیا کریں گے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی جانب سے افغان افواج کو فراہم کیے جانے والے اسلحے کا ایک بڑا حصہ طالبان کے ہاتھوں میں آگیا ہے جنہوں نے ملک کے بیشتر حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ تحریک طالبان اس ’ مال غنیمت‘ کا کیا کرے گی؟۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ امریکی ہتھیاروں کی ایک اچھی خاصی مقدار طالبان کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اور ہمیں یقین نہیں ہے کہ وہ ہمیں واپس کردیں گے۔

گزشتہ جمعہ کو طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھایا گیا تھا کہ ان کے جنگجو ملک کے جنوب میں قندھار ہوائی اڈے پر امریکی فوج کے امریکی بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کے گرد جشن منا رہے ہیں۔

سلیوان نے کہا کہ امریکا نے طالبان کو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر نہیں دیے۔ یہ افغان فورسز کو بھگوڑے صدر اشرف غنی کی درخواست پر دیے گئے۔ ان کاکہنا تھا کہ ان ہیلی کاپٹروں کے طالبان کے ہاتھ لگنے کے خطرے کے باوجود صدر جوبائیڈن نے افغان فوج کو دینے کی منظوری دی۔

فضائی طاقت

امریکی "ڈیفنس نیوز" ویب سائٹ نے رپورٹ دی ہے کہ انسپکٹر جنرل برائے افغانستان کی تعمیر نو کے دفتر (سیگار) کے تازہ ترین اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ امریکا نے افغان فضائیہ کو 211 فکسڈ ونگ یا ہیلی کاپٹر فراہم کیے تھے لیکن ان میں سے30 جون تک صرف 167 اڑنے کے قابل تھے۔

ابھی تک امریکی محکمہ دفاع نے طالبان کے قبضے میں لیے گئے طیاروں ، قابل استعمال اور افغان فضائیہ کے پائلٹوں کی جانب سے محفوظ طریقے سے پڑوسی ممالک میں پہنچائے جانے والے طیاروں کی تعداد واضح نہیں کی ہے۔

خصوصی میگزین "جینز ڈیفنس" نے بدھ کے روز سیٹلائٹ تصاویر شائع کیں جن میں افغان ایئر فورس کے تقریبا چالیس طیارے دکھائے گئے جو کہ طالبان کے ہاتھوں میں آنے سے روکنے کے لیے گزشتہ چند دنوں میں ازبکستان پہنچائےگئے تھے۔

پچھلی جون تک افغان فضائیہ 23 A-29 لڑاکا طیارے ، چار C-130 کارگو طیارے اور مجموعی طور پر 33 Cessna Caravan فوجی نقل و حمل اور ہلکے لڑاکا طیارے چلا رہی تھی۔

افغان فضائیہ نے تقریبا 150 ہیلی کاپٹر بھی چلائے جن میں امریکی ساختہ UH-60 بلیک ہاک اور MD-530s اٹیک ہیلی کاپٹر بھی شامل ہیں جو مشین گنوں اور میزائلوں سے لیس ہیں۔

طالبان کے قبضے میں آنے والے بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں میں زبردست جارحانہ خصوصیات ہیں، کیونکہ وہ دو انجنوں سے لیس ہیں اور ان کا مقصد افغانستان کی سخت آب و ہوا کے دوران استعمال کرنا ہے۔ہیلی کاپٹر انخلاء اور لینڈ لینڈنگ میں مدد کرتا ہے یہ 11 سپاہیوں کو لے جانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور مشین گن سے لیس ہے۔

بلیک ہاک ہیلی کاپٹروں کی بے پناہ صلاحیتوں کے باوجود A-29 ہلکا جنگی طیارہ زیادہ مہلک اور زیادہ ہتھیاروں سے لیس ہے۔ A-29 زمینی افواج کو فضائی مدد فراہم کرتا ہے۔ لیزر گائیڈڈ بم لانچ کر سکتا ہے۔ وسیع پیمانے پر ہتھیار لے جا سکتا ہے اور کم لاگت والے جنگی طیارے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو کم خطرے والے ماحول میں کام کر رہا ہے۔

کیا طالبان طیارے اڑاسکتے ہیں؟

لڑاکا طیاروں کے برعکس جو تیزی سے اڑنے اور جنگی مشقیں کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں افغانستان میں A-29s میں تبدیلی کی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ زمین پر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے آہستہ اور کم سطح پر اڑنے کے قابل ہیں۔ انہیں ناتجربہ کار پائلٹوں کے لیے بھی چلانے کے قابل بنایا گیا ہے۔

اس کے باوجود امریکی ایئر کمبیٹ کمانڈ کے کمانڈر جنرل مارک کیلی کا کہنا ہے کہ اگر طالبان خود طیارے اڑانے کی کوشش کریں گے تو وہ رکاوٹوں کی ایک لمبی فہرست کا سامنا کریں گے چاہے وہ فوجی ہوائی جہاز ہو یا ہیلی کاپٹر۔ ان کے لیے انہیں اڑانا اتنا آسان نہیں۔

کیلی نے ڈیفنس نیوز کو بتایا کہ طالبان کے پاس تربیت یافتہ پائلٹ نہیں ہیں جو محفوظ طریقے سے طیارے اڑانے ، سینسر استعمال کرنے اور ہتھیاروں کو لوڈ اور نصب کرنے کے قابل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ حقیقت میں ہوائی جہازوں کو اڑانے کے قابل ہوسکتے ہیں لیکن وہ اپنے آپ کو زمین کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ خطرناک پائیں گے۔

جنرل کیلی کے مطابق طالبان کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ پرواز سے پہلے اور بعد میں ہوائی جہاز کی دیکھ بھال کی لاگت ، مہارت اور لاجسٹکس ہے۔

طالبان کے پاس آپشنز

ان تمام رکاوٹوں کے باوجود واشنگٹن میں فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسی میں سینٹر فار ملٹری اینڈ پولیٹیکل پاور کے سینیر ڈائریکٹر بریڈلی بوومن کا خیال ہے کہ طیاروں کو آپریٹ کرنا طالبان کے لیے ناممکن کام نہیں ہو سکتا۔

بوومن نے ڈیفنس نیوز کو بتایا کہ ایسے منظر کا تصور کرنا ناممکن نہیں ہے جہاں انہیں پائلٹ ملیں۔ شاید وہ افغان ایئر فورس کے سابق پائلٹوں کو اپنی صفوں میں شامل ہونے پر مجبور کریں۔

بوومن نے مزید کہا کہ غیر ملکی افواج جو امریکا کے ساتھ اتحادی نہیں ہیں ان کی طرف سے بھی بھی طالبان کو مدد فراہم کرنے کا امکان ہے۔

اسی تناظر میں جنرل کیلی نے کہا کہ اگر طالبان کو تجربہ کار پائلٹ مل بھی جائیں تو وہ امریکی مفادات یا خطے میں سلامتی کے لیے خطرہ نہیں بن سکیں گے کیونکہ امریکا نے افغانستان میں جو ہتھیار چھوڑے ہیں وہ کافی ترقی یافتہ نہیں ہیں کہ علاقئی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکیں۔