.

افغان فورسز کی سقوط کابل سے قبل شہریوں پر فائرنگ کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل جمعہ کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس افغان سیکیورٹی فورسز کو بیرون ملک فرار کی کوشش کرنے والے خواتین اور بچوں پر فائرنگ کرتے اور انہیں کابل کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کرتے دکھایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی اس ویڈیو پر سماجی کارکنوں کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے اور فائرنگ کو ’جنونی‘ اور غیر انسانی اقدام قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ 15 اگست کو طالبان کے پورے افغانستان پر قبضے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ افغان باشندوں کے فرار کی کوشش ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب بیس سال کے بعد امریکا نے افغانستان کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

درایں اثنا شمالی اوقیانوس اتحاد ’نیٹو‘ کے ایک ذمہ دار نے جمعے کو بتایا کہ کابل پر طالبان کے تسلط کے بعد اب تک 18 ہزار افراد کو بیرون ملک پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے افغان بحران پر مغرب پر تنقید کے باوجود انخلا کی کوششیں مزید تیز کرنے کا عہد کیا۔

خبر رساں ادارے ’رائیٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے نیٹو عہدیدار نے کہا کہ اب بھی بیرون ملک فرار کے خواہش مند افراد ہوائی اڈے پرموجود ہیں اور ان کے پاس گھروں کو واپس جانے کے لیے سفری دستاویزات نہیں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ گذشتہ جمعرات سے اب تک امریکا نے تین ہزار افراد کو بیرون ملک منتقل کیا ہے جن میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے سے ’C17‘ جہازوں کے ذریعے 16 فلائٹوں میں 350 امریکیوں سمیت تین ہزار افراد کو بیرون ملک منتقل کیا گیا۔