.
افغانستان وطالبان

ترکی اور چین افغانستان کی تعمیرنو میں کلیدی کردار اداکرسکتے ہیں: طالبان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ اتوار سے افغان دارالحکومت اور پورے ملک کا کنٹرول سنھبالنے والے طالبان تحریک کے ترجمان سہیل شاہین نے چین اور ترکی کو افغانستان میں تحریک کا اہم شراکت دار قرار دیا۔

انہوں نے چینی چینل "سی جی ٹی این" کو انٹرویو دیتے ہوئے وضاحت کی کہ طالبان چین اور ترکی کو جنگ کے بعد افغانستان کی تعمیر نو میں شراکت دار سمجھتے ہیں۔

اس کے علاوہ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کو ترکی کے ساتھ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ دوستی، مدد اور تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں حالات معمول پر آگئے ہیں اور شہریوں اور ان کی املاک کی حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے کابل میں روز مرہ کے معاملات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں سہیل شاہین نے مزید کہا کہ افغانستان کے پاس قدرتی وسائل ہیں لیکن ہمارے پاس ان کو نکالنے کے لیے وسائل نہیں۔ ہمارا بنیادی ڈھانچہ حکمرانوں کے تسلط اور چوری سے مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ ہم ترکی سے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، معیشت کے شعبوں میں تعاون کرنا چاہتے ہیں اور تعمیر اور توانائی، نیز معدنی پروسیسنگ کے حوالے سے بھی ہم ترکی کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کل جمعہ کواعلان کیا تھا کہ ان کا ملک ضرورت پڑنے پر طالبان رہ نماؤں سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ضرورت ہو تو ہم طالبان کے ساتھ مذاکرات کر سکتے ہیں۔زمین پر حقائق موجود ہیں جن کو مدنظر رکھنا چاہیے لہذا جب وہ ہمارے دروازے پر دستک دے یں گے ہم دروازے کھول دیں گے۔