.
افغانستان وطالبان

سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یاراورصدراشرف غنی کے بھائی نے طالبان کی حمایت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان کے سابق وزیراعظم اور حزبِ اسلامی کے رہ نما گلبدین حکمت یار نے طالبان حکومت کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔ان کے علاوہ خودساختہ جلاوطن صدر اشرف غنی کے چھوٹے بھائی حشمت غنی نے بھی طالبان کی حمایت کردی ہے۔

مقامی میڈیا افغان اردو کی رپورٹ کے مطابق طالبان کےاعلیٰ سطح کے وفد کی ملّاشہاب الدین دلاورکی سربراہی میں سابق افغان وزیراعظم گلبدین حکمت یار سے کابل میں ملاقات کی ہے اوران سے ملک کی موجودہ صورت حال اور نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق امورپرتبادلہ خیال کیا ہے۔

اس ملاقات میں طالبان کے دوسینیر رہ نماملّاخیراللہ خیرخواہ اور ملّاعبدالسلام حنفی بھی موجود تھے۔ اس موقع پرطالبان رہ نماؤں نےگلبدین حکمت یار کی امامت میں نماز بھی ادا کی۔حکمت یار 1990ء کی دہائی میں افغانستان میں مجاہدین کے مختلف گروپوں پر مشتمل قومی حکومت کے وزیراعظم رہے تھے۔

طالبان وفد کے ارکان حکمت یار کی امامت میں نماز ادا کررہے ہیں۔
طالبان وفد کے ارکان حکمت یار کی امامت میں نماز ادا کررہے ہیں۔

قبل ازیں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک ویڈیومنظرعام پرآئی ہے۔اس میں بعض طالبان لیڈروں کے ساتھ سبکدوش افغان صدر کے چھوٹے بھائی حشمت غنی کو دیکھا جاسکتا ہے۔وہ ان کے ساتھ مصافحہ کررہے ہیں۔اس ملاقات میں طالبان کے لیڈر خلیل الرحمٰن حقانی اور مذہبی اسکالر مفتی محمود ذاکربھی موجود ہیں۔

صحافی طاہرخان نے اپنے ٹویٹراکاؤنٹ پر یہ ویڈیو شئیرکی ہے اور کہاہے کہ اس کو مفتی ذاکر نے جاری کیا ہے۔

دریں اثناء بلومبرگ نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ سابق افغان حکومت کے لیڈروں نے طالبان رہ نماؤں سے ملاقات کی ہے۔سابق افغان صدرحامد کرزئی اورافغانستان کی اعلیٰ مصالحتی کونسل کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ نے کابل کے قائم مقام گورنر عبدالرحمٰن منصور سے ملک کی نئی صورت حال پر بات چیت کی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ اتوار کو کابل پر طالبان کے کنٹرول کے بعد صدراشرف غنی ملک سے بذریعہ طیارہ راہ فرار اختیار کرگئے تھے اورجمعرات کو متحدہ عرب امارات کے وزارت برائے امورخارجہ اور بین الاقوامی تعاون نے ان کی ملک میں موجودگی کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اشرف غنی اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملک میں پناہ دی گئی ہے۔