.
افغانستان وطالبان

طالبان کے شریک بانی ملّا برادرنئی حکومت کی تشکیل سے متعلق بات چیت کے لیے کابل میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان میں طالبان تحریک کے شریک بانی ملّاعبدالغنی برادرنئی حکومت کی تشکیل سے متعلق بات چیت کے لیے دارالحکومت کابل پہنچ گئے ہیں۔

طالبان کے ایک لیڈر نے بتایا ہے کہ ملّا برادر دارالحکومت میں اپنے سینیر ساتھیوں کے علاوہ دوسرے سیاست دانوں سے نئی مشمولہ حکومت کی تشکیل سے متعلق امور میں مشاورت کریں گے۔

واضح رہے کہ ملّاعبدالغنی برادر کو 2010ء میں پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا تھا،وہ آٹھ سال تک سکیورٹی ایجنسوں کے زیرحراست رہے تھے اور انھیں 2018ء میں امریکا کے دباؤ پر افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات کے لیے رہا گیا تھا اور انھیں امریکی نمایندوں سے مذاکرات کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں منتقل کردیا گیا تھا۔

تب انھیں دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفترکا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔انھوں نے ہی دوسال تک طویل مذاکرات کے بعد امریکی ایلچی زلمے خلیل زاد کے ساتھ افغانستان سے غیرملکی افواج کے انخلا کے متعلق معاہدے پر دست خط کیے تھے۔اس کے تحت ہی افغانستان سے امریکا اور نیٹو کی افواج کی انخلا ہوا ہے۔

ملّاعبدالغنی برادرگذشتہ منگل کے روز قطر سے افغانستان کے جنوبی شہر قندھار پہنچے تھے۔ان کی آمد کے چند گھنٹے کے بعد ہی طالبان نے یہ اعلان کیا تھا کہ اس مرتبہ ان کانظام حکومت ماضی سے مختلف ہوگا۔اب طالبان کے قائدین دوسرے سیاسی لیڈروں سے نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کررہے ہیں۔