.

فرانسیسی صدر کا پیرس پہنچنے والے افغان بچے کا خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے صدر عمانویل ماکروں نے جمعے کے روز ٹویٹر پر افغانستان کے ایک پناہ گزین بچے کے پیرس پہنچنے پر اسے "خوش آمدید" کا پیغام بھیجا۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد دو سو افراد پر مشتمل تیسرا گروپ پیرس پہنچا ہے۔

انہوں نے جمعرات کو ایک فرانسیسی سپاہی کی تصویر کے ساتھ منسلک ایک ٹویٹ میں لکھا کہ یہ فرانس کے لیے اعزاز ہے۔ ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ تقریبا 200 افغان جو فرانس کے لیے کام کر رہے تھے یا جنہیں کابل سے خطرہ تھا وہ پیرس پہنچے ہیں۔نیز فرانسیسی شہریوں اور غیر ملکیوں کو بھی کابل سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے فرانسیسی فوج ، پولیس اور سفارتی ٹیموں کا لوگوں کے انخلا میں مدد پران کا شکریہ ادا کیا۔

ادھر فرانسیسی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان سے فرانس آنے والے تمام افراد کو کرونا ایس اوپیز کے تحت دس دن تک قرنطینہ میں رہنا ہوگا کیونکہ ان کا ملک افغانستان کرونا سے متاثرہ ممالک اور وبا کے خطرات کے حوالے سے ریڈ لسٹ میں ہے۔

فرانس اور دیگر ممالک کی انخلاء کی کارروائیوں کو جاری رکھنے کی صلاحیت کو یقینی بنانے کے لیے صدر ماکروں نے امریکی صدر جو بائیڈن سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ دونوں رہ نماؤں نے افغان مسئلے پر اتحادی ممالک میں ہم آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔