.

اوآئی سی کا افغانستان میں قیامِ امن کے لیے مددوتعاون دینے کا وعدہ

افغانستان کی مستقبل کی قیادت جنگ زدہ ملک کو’دہشت گردوں‘کی محفوظ پناہ گاہ نہ بننے دے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) نے افغانستان میں قیام امن کے لیے مددوتعاون مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے اورجنگ زدہ ملک کے مستقبل کے لیڈروں سے کہا ہے کہ وہ اس کو’’دہشت گردوں‘‘کی محفوظ پناہ گاہ بننے دیں اور نہ اس کودہشت گردی کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طورپراستعمال کرنے کی اجازت دیں۔

57 اسلامی ممالک پر مشتمل تنظیم کا اتوار کو سعودی عرب کے شہر جدہ میں اجلاس ہوا ہے۔یہ اجلاس سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی دعوت پر بلایا گیا تھا۔اس میں تنظیم کے صدردفاتر میں تعینات رکن ممالک کے مستقل مندوبین نے شرکت کی ہے۔انھوں نےافغانستان میں گذشتہ ہفتے طالبان کے کنٹرول کے بعد پیدا ہونے والی تازہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیے میں تمام افغان فریقوں پرزوردیاگیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پُرامن طریقے سے ختم کریں۔

تنظیم نے افغانستان کی مستقبل کی قیادت سے کہا ہےکہ وہ اس بات کویقینی بنائے کہ اس ملک کو مستقبل میں کبھی جنگ پسندی کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔اس نے عالمی برادری سے بھی کہا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا کردار اداکرے۔

تنظیم کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹریوسف العثیمین نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کابل میں برسراقتدار حکومت پر زوردیاکہ وہ افغانستان میں انسانی قانون اورشہریوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

انھوں نے بھی برسراقتدارحکومت سے کہا کہ وہ ملک میں قومی مصالحت کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان مکالمے کا اہتمام کرے اوربین الاقوامی کنونشنوں اور معاہدوں کی پاسداری کو یقینی بنائے۔

ڈاکٹرالعثیمین نے افغانستان میں طالبان کے کنٹرول کے بعد پیداہونے والی انسانی صورت حال کے بارے میں بھی اظہارخیال کیا۔انھوں نے عالمی برادری، اوآئی سی کے رکن ممالک اور اسلامی مالیاتی اداروں پر زوردیاکہ وہ فوری طور پر افغانستان کے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد مہیا کرنےکےلیےاقدامات کریں۔