.

سعودی فضائیہ نے خمیس مشیط کی جانب آنے والاحوثیوں کا بارود سے لدا ڈرون مارگرایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے اتوار کو یمن سے چھوڑا گیاایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کا بارود سے لدا ایک اورڈرون مارگرایا ہے۔حوثیوں نے اس ڈرون سے سعودی عرب کے جنوبی شہر خمیس مشیط کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔

اس ڈرون حملے سے ایک روز قبل ہی عرب اتحادی فوج نے یمن کے صوبہ مآرب میں حوثیوں کے ٹھکانے پر فضائی حملہ کیا تھا۔اس کے نتیجے میں ایک ایرانی ماہرحیدر سرجانی اور حوثی ملیشیا کے نو جنگجو ہلاک ہوگئے تھے۔ یمنی وزیراطلاعات معمرالاریانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس حملے کے مہلوکین میں حوثی ملیشیا کے دو کرنل بھی شامل تھے۔

عرب اتحاد نے ایک بیان میں حوثیوں کے نئے ڈرون حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ’’ہم حوثیوں کے اس طرح کے معاندانہ حملوں سے شہریوں اور شہری اہداف کو بچانے کے لیے آپریشنل اقدامات کررہے ہیں۔‘‘

حوثی ملیشیا نے اگست کے دوسرے ہفتے کے بعد سے اب تک سعودی عرب کی جانب بارود سے لدے چارڈرونز سے حملوں کی کوشش کی ہے لیکن سعودی عرب کے فضائی دفاعی نظام نے انھیں ناکارہ بنا دیا ہے۔

حوثی ملیشیا نے حالیہ مہینوں میں یمن کے شمال سے سعودی عرب کے جنوبی شہروں اور علاقوں کی جانب بارود سے لدے متعدد ڈرون بھیجے ہیں اور میزائل داغے ہیں۔عرب اتحاد ان ڈرون حملوں کے بروقت تدارک اور ان سے شہریوں اور شہری ڈھانچے کو بچانے کے لیے دفاعی اقدامات کررہا ہے۔

عرب اتحاد کا کہنا ہے کہ’’دہشت گرد حوثی ملیشیا اور اس کی پشت پناہ قوتوں نے شہریوں اور شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے جرائم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قانون کی ننگی خلاف ورزی اورانسانی اقدار کے صریحاً منافی ہیں اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔‘‘